جہاں اللہ کریم کا حکم ہے کہ اِنسان اپنی سعی سے ہی کچھ حاصل کرتا ہے، وہاں اُس کے احکام کے اور رُخ بھی ہیں۔عمل کا جذبہ بھی اُس کی عطا ہے اور پھر عمل کی راہ میں کتنے حادثات آتے ہیں، کتنے ہی واقعات ہیں۔ ہمارا عمل درست بھی ہو تو ممکن ہے کہ کسی اور کج رَو کا عمل ہمارے عمل کے نتیجے کو ختم کر دے۔ ہم تنہا زندگی بسر نہیں کر رہے۔ ہمارے ساتھ ایک زمانہ چل رہا ہے۔ ہر آدمی عمل کر رہا ہے۔ ہمارے عمل کی راہ میں دوسروں کے اعمال حائل ہوتے ہیں اور پھر نتیجہ وہی رہتا ہے کہ ہم نتیجے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ طاقتور بادشاہوں کو کمزور عوام ایک جنبش میں اُڑا کے رکھ دیتے ہیں۔ آج میرا عمل میرے پیشروؤں نے بھی مسدود کر رکھا ہے۔ قرآن و حدیث کے مقدّس حوالوں تک ہی بات رہتی تو مبارک تھی، لیکن اب بات آگے نکل گئی ہے۔ امام غزالیؒ سے لے کر حاؔلی تک اور فقہاء سے لے کر ہمارے اپنے رفقاء تک، ہر اِنسان صاحبِ ارشاد ہے اور اُن کے ارشادات نے ہمارے عمل کی آزادی پر پہرے بٹھائے ہوئے ہیں۔ مجھے میرے عمل نے صرف تقلید سکھائی ہے۔ میری آزادی صرف میری خامشی ہے۔ امام غزالیؒ کو غزالیؒ بننے کے لیے کسی اور غزالیؒ کی تقلید ضروری نہ تھی۔ سقراط، سقراط تھا، ہر چند کہ اس سے پہلے اور کوئی اُس جیسا نہ تھا۔ تقلید کا عمل بے ثمر رہتا ہے۔
فطرت کو منظور نہیں کہ سب لوگ سقراط ہی بنتے جائیں۔ عمل اور شے ہے اور نصیب چیزے دِگر۔ ایک راہ پر چلنے والے، ایک جیسا عمل کرنے والے، الگ الگ نصیب لے کر آتے ہیں۔ بے عملی مقصود نہیں، صرف یہ وضاحت مراد ہے کہ اپنی حدود کو پہچانے بغیر عمل میں داخل ہونا ہلاکت کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔ اِنسان ہزار محنت کرے، بغیر وجدان کے شاعر نہیں ہوسکتا، اور جس کو وجدان عطا ہوا، وہ محنت کے بغیر بھی شاعر ہے، اور یہ وجدان محنت سے حاصل نہیں ہوتا۔ ہم نے تاریخ میں بادشاہوں کو کرب و اندیشے میں مبتلا دیکھا ہے۔ سکندرِ اعظم عظیم تھا، مگر بے وطن مرقد کا مسافر تھا۔ صاحبِ منزل بھی عمل کرتا ہے اور بھٹکا ہوا راہی بھی محنت کرتا ہے۔ ہمارا عمل گناہ اور ثواب مُرتب کرتا ہے۔ ہمارا عمل ہمیں آسانیاں بھی عطا کرتا ہے اور دشواریاں بھی۔ گلاب، گلاب ہے — عمل کرے یا نہ کرے۔ کانٹا، کانٹا رہے گا — چاہے کتنی ہی محنت کرے۔عظیم اِنسان فطرت کا عمل ہیں۔ اُن کا اپنا عمل انہیں عظیم نہیں بناتا۔ پیغمبر بننے کا کوئی عمل نہیں۔ یہ منصب عطا ہے۔ اِمام عمل سے نہیں، نصیب سے ہے۔ ارشادِ ربّانی ہے کہ ہم جسے چاہتے ہیں، مملکت دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں، معزول و محروم کر دیتے ہیں۔عمل بہانہ ہے، مقدّر اٹل ہے۔ عقل اور نصیب نہ ہوں تو عمل جہالت ہے۔ ریت میں ہل چلایا جائے، بیج بویا جائے اور اُسے پانی کے بجائے چاہے خونِ دل ہی سے کیوں نہ سینچا جائے، وہاں کچھ نہ اُگے گا۔ عمل ہے، لیکن نتیجہ نہیں ہے۔ عمل سے زندگی میں جنّت اور جہنّم حاصل ہونے کا دعویٰ ہے، لیکن ہر عمل زندگی حاصل نہیں کرتا۔
ہر صاحب ِعمل جنّت میں نہیں جاتا۔ ہر گناہ جہنّم میں نہیں پہنچاتا۔ اِس میں قدرت کا دخل ہے۔ اُس مالک کا دخل ہے جس نے بغیر کسی عمل کے مکھی کو شہد عطا کیا، جس نے سُورج کو روشن بنایا، جس نے غریبوں کو شاہ ،اور شاہوں کو گدا بنایا۔ اِس میں عمل شامل نہیں۔ وہی ذرّوں کو آفتاب بناتا ہے، محنت کو نتیجے عطا کرتا ہے۔ خوب صورت چہرہ بغیر کسی عمل کے حاصل ہوتا ہے۔ محبّت بغیر کسی عمل کے حاصل ہو تی ہے اور پھر سکونِ قلب— اُس کی عطا ہے۔ اِس کے حصول کا کوئی عمل نہیں۔
عمل سے غریبی دُور نہیں ہوتی۔ غریب اِنسان کتنا عمل کرتاہے۔ مزدور کتنی محنت کرتا ہے۔ ایک ہی دفتر میں تمام لوگ ایک جیسا ہی عمل کرتے ہیں۔ ایک جیسے اوقات میں حاضر ہوتے ہیں اور نتیجے مختلف ہوتے ہیں۔ تنحواہیں الگ الگ ہیں، راہیں الگ الگ، لیکن محنت کے اوقات یکساں ہیں۔ ایک مارکیٹ میں ایک جیسے دُکان والے، ایک جیسا سامان رکھنے والے، الگ الگ نتیجے سے گزرتے ہیں۔ جہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے، وہاں بیٹا پیدا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ کسی بُرے عمل کے بغیر بھی اِنسان بدنام ہو سکتا ہے۔ اکثر محروم اِنسان کہتے ہیں کہ اُنہوں نے کوئی غلطی نہیں کی، اُن کی معصومیت کو سزا ملی ہے۔ ایسے ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ پیغمبروں پر الزام لگے ہیں، اُن کو قید خانوں سے گزرنا پڑا ہے، بغیر کسی بُرے عمل کے!!
اِسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے مرتبوں پر فائز رہنے والے اتنے اہم نہیں ہوتے، اُن کا عمل اتنا معتبر نہیں ہوتا، لیکن اُن کا مرتبہ معتبر رہتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ بس ہے۔ بے سبب ہے، بے جواز ہے۔ عمل بہت کچھ ہے، لیکن یاد رہے کہ عمل سب کچھ نہیں۔