سالہا سال اور قرن ہا قرن کی عبادت اِبلیس کو ندامت کے علاوہ کیا دے سکی۔  ظلمات سے نُور میں داخل ہونے کا کوئی عمل نہیں۔  یہ خود خالق کا عمل ہے۔  ہمارا عمل ہمیں معزز نہیں کرتا،  اُس کا فضل عزت بخشتا ہے۔  معاف کرنے والے کے لیے گناہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔  نیکی کا غرور محرومیوں کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔

زندگی کی اساس عمل نہیں،  فضل ہے۔  ہم لوگ فوری نتیجوں پر غور کرتے ہیں اور اِس طرح انتہائی نتائج سے بے خبر رہتے ہیں۔  جھوٹے معاشرے میں عزت دراصل بدنامی ہے۔  ہم نہیں سمجھتے کہ اصل عمل،  اُس کے فضل کے حصول کا نام ہے اور اُس کا فضل کسی فارمولے سے حاصل نہیں ہوتا۔

نیّت کی اِصلاح ہو تو عمل میں خلوص پیدا ہوسکتا ہے اورعمل کا خلوص نیّتوں سے بے نیاز ہے۔  نیکی کے سفر میں جہا ں بھی آخری سانس آئے،  وہی منزل ہے۔

ہمارا نظامِ حیات،  نظامِ تعلیم اور نظامِ فکر ہمیں صرف عمل میں مصروف رکھتا ہے،  عاقبت کی کوئی گارنٹی نہیں۔  نتیجے عارضی ہیں۔  مرتبے،  آسائشیں،  شہرتیں اور اختیارات گمراہی کے مقامات بھی ہو سکتے ہیں۔ اُس عمل کو تلا ش کیا جائے جو ہمیں بھی پسند ہو اور ہمارے مالک کو بھی،  ورنہ نتیجہ ہلاکت اور گمراہی ہے۔  احسن عمل،  اصلاحِ باطن کے ساتھ حُسن ِ حیات کا حصول ہے۔ زندگی میں راہیں بدلنے کا وقت نہیں۔  پہلے ہی سے صحیح راستے کا انتخاب کیا جائے اور اُس پر صحت ِ عمل سے گامزن ہو کر اُس کے فضل کا آسرا تلاش کیا جائے۔  یہی منشا ہے اِس حکم کی کہ اے اِنسان! تُو محنت کے لیے پیدا کیا گیا۔  اب اپنے رب کے راستے کی طرف محنت کر۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نا عاقبت اندیشی میں ہمارا عمل اُس بُڑھیا کی طرح ہو،  جس نے راتوں کو جاگ جاگ کر سُوت کاتا اور انجامِ کار اِسے خود ہی اُلجھا دیا۔

Pages: 1 2 3