حقیقت درحقیقت ہر اُس شے کا نام ہے، جو ہے۔ بنانے والے نے جو بھی تخلیق فرمایا، حق ہے۔ یہاں کچھ بھی باطل نہیں۔ حکم ہے کہ جو بھی ہے، باطل نہیں ہے — یعنی سچ بھی حقیقت،جھوٹ بھی حقیقت— خیر کی اپنی حقیقت ہے، شر کی اپنی حقیقت۔ خالق ایک ہی ہے— ”خیر“ اُس نے پیدا فرمایا — ”شر“ اُس نے تخلیق فرمایا۔ انسان صرف آنکھ کھول کر چلتا چلے اور دیکھتا جائے، غور کرتا جائے اور ممکن ہو تو جاننے والوں سے پوچھتا چلے کہ اشیاء اور اَسماء کی حقیقت کیا ہے، اور یہ کہ حقیقت کی حقیقت کیا ہے؟
انسان نے تصور کر رکھا ہے کہ حقیقت فلاں قسم کی شے ہے، اور جب انسان زندگی کا سفر کرتا ہے، اُس کو وہ شے نہیں ملتی تو وہ کہتا ہے کہ حقیقت نہیں ملی۔ یہی بیان تو غلط ہے کیونکہ جو کچھ ملا، وہ بھی تو حقیقت ہی تھی۔ اگر شیر نہیں ملا، تو ہاتھی تو ملا۔ بس ہاتھی ہی حقیقت ہے، اُس جنگل کی۔ آگے چلیں گے توشیر بھی ملیں گے۔ پھر وہ حقیقت ہوں گے۔ پس! جو کچھ بھی حقیقتاً موجود ہے، حقیقت ہے۔
اس سارے مشاہدے میں مشکل صرف ایک ہے کہ ہمارا اندازِ نظر اکثر غلط ہوتا ہے۔ ہم ایک محدود رسائی کی آنکھ سے لامحدود منظر کو دیکھتے ہیں اور پھر فوراً فیصلہ کرکے اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم زمین کی وسعتوں میں پھرے،سمندروں کی تہہ تک پہنچے،خلاؤں کا چپّہ چپّہ چھان مارا ،ہمیں کوئی خدا نہیں ملا— پس خدا کا وجود نہیں ہے۔ یہیں نتیجہ غلط ہو گیا۔ ڈھونڈنے والا بڑے بڑے فاصلے طے کرتا رہا، اُس نے اپنے دل کا سفر نہیں کیا۔ اس لیے اسے خدا کی حقیقت یا اُس کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا۔
ایسے ہی دوڑ لگانے سے حقیقتیں دریافت نہیں ہوتیں۔ فاصلے طے کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ بحث کرنے سے حقیقت نہیں ملتی۔ غور کریں اور پھر مزید غور کریں، حتیٰ کہ آپ اصل تک رسائی حاصل کر لیں۔ اصل کیا ہے—؟ آم کا بیج ہے؟ آم کا درخت ہے؟ آم کا پھل ہے؟ آم کا گودا ہے؟ آم کی گٹھلی ہے؟ آم کی گٹھلی کے اندر کا مغز ہے؟ کیا اِس سارے کارخانۂ تخلیقِ ثمریات کے پیچھے کسی کا اَمر تو نہیں؟ اِس کو ہی حقیقت کیوں نہ مان لیا جائے — اور پھر اَمر لگانے والی ذات خود ہی حقیقتوں کی حقیقت، ہر آخر کا اوّل اور ہر اوّل کا آخر، وہی جو ہر ظاہر کا باطن ہے اور ہر باطن کا ظاہر ہے۔ وہی جو نیستی کو ہستی اورہستی کو نیستی بنا دیتا ہے۔ وہی جس کے قبضۂ قدرت سے کسی شے کے باہر ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہر پردے کے پیچھے موجو دہے۔ سب حقائق کا خالقِ مطلق ہے۔ وہ ہر منظر میں جلوہ گر ہے۔ ہر دل میں موجود ہے اور شاید ہر آنکھ سے اوجھل ہے۔ اسی حقیقت کے ذکر کو ”حقیقت“ کہتے ہیں۔