حقیقت دریافت کرتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دریافت نہ ہونے والے کی دریافت جاری رہتی ہے۔ اُس کا ذکر رہتا ہے۔ وہ ہر کلام میں ہے، ہر جگہ ہے، لیکن کہاں ہے؟ ہم نہیں بتا سکتے۔ وہ کوئی جغرافیائی مقام نہیں کہ اسے طول بلد اور عرض بلد میں بتایا جا سکے۔ وہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں کہ اسے کتابوں میں تلاش کیا جائے۔ وہ تو عیاں ہے۔ صرف ہم ہی اُسے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ہم تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ آنکھ میں بینائی کہاں رہتی ہے؟— جسم میں جان کدھر رہتی ہے؟— خوشی کس کونے میں رہتی ہے؟— غم کہاں ہوتا ہے؟ آنسو کہاں سے آتے ہیں؟ کیا یہ دُور سے آتے ہیں؟
کیا اِن اشکوں کی تاثیر سے عرش ہل جاتے ہیں؟ — ہم باخبر نہیں۔ ہم خود تو خود سے نا آشنا ہیں، خدا سے کیا آشنا ہو سکتے ہیں! ویسے بھی خدا سے آشنائی ممکن ہی نہیں، جب تک وہ خود آشنائے راز نہ کر دے۔ آج تک تو ایسے ہی ہوتارہا ہے کہ وہ خود ہی کسی نامعلوم لمحے میں پردے کے پیچھے سے پکارتا ہے— ٹھہرو! میں تمہارا رب ہوں۔ یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ عصا— اسے پھینک دو — اور دیکھو—! بس اُس نے خود ہی نامزد فرما دیا — پیغمبرؑ— اُس کا پیغام لانے والا۔ وہ آشنائی عطا کرتا ہے۔ اِنسان خود کیا کر سکتا ہے! وہ خود کلام کرتا ہے۔ خود جلوے عطا فرماتا ہے۔ خود ہی مرتبے دیتا ہے۔ بیان کی طاقتیں دیتا ہے اور کبھی کبھی تو حقیقت آشنا کرکے گویائی کی طاقت سلب کر لیتا ہے۔ کتنے حقیقت شناس خاموش چلتے پھرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں، بتا نہیں سکتے، اور جو لوگ بتا سکتے ہیں، شاید جان نہیں پاتے۔
حقیقت کا متلاشی عزم کا پیکر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بلند پہاڑوں اور گہرے سمندروں کا سفر کوئی آسان کام نہیں۔ بس ہمت، یقین اور زبردست اُمّید کی ضرورت ہے۔ مایوسی اِس راستے کا سب سے بڑا راہزن ہے۔ کتنے کتنے قافلے لُٹ گئےاِس راہ میں۔ بس مایوس ہو گئے، واپس آ گئے کہ حقیقت کچھ نہیں—!
یہ بڑے فضل کی بات ہے کہ حقیقتوں والا خود ہی حقیقت سے پردہ ہٹائے، ورنہ انسانی عقل اور انسانی دل پر غفلت کا پردہ رہتا ہے— نفس کا پردہ،غرور کا پردہ، لالچ و خود پسندی کا پردہ، اَنا کا پردہ،دولت کا پردہ،شہرت کے حصول کی ہوس کا پردہ —پردہ ہی پردہ — جہالت و ظلم کا پردہ، علم والا مشہور ہونے کی غلط فہمیوں کا پردہ! حقیقت کہاں سے نظر آئے گی! نگاہ میں ناپاک، ناروا اور نامحرم مناظر ہوں تو ایسی بدبخت آنکھ حقیقتوں کو کیا دریافت کرے گی—؟ جنس پرستی کے بھوکے شکاری حقیقت کے پجاری نہیں بن سکتے۔ حقیقت کی تلاش کرنے والا خود حقیقت نہ بنے، تو بات نہیں بنتی۔
انسان ایک خاموش روشن آئینہ بن جائے تو حقیقت نقاب اور حجاب سے باہر نکل کر آئینے کے رُوبرو ہو جاتی ہے۔ بس آئینہ صیقل ہونا چاہیے۔ یہ دل کا آئینہ ہے، جو اُس کے ذکر سے صیقل ہوتا ہے اور پھر ایک دن، کسی دن، کسی ساعت، کسی لمحے کے لیے چکا چوند، حقیقت کا جلوہ — بلکہ جلوے کا عکس اور پھر عکس کا جلوہ — جلوہ گری کر جاتا ہے۔ سُدھ بُدھ — ہوش و حواس — غائب— بس جلوہ حاضر اور بندہ غائب — اور جب بندہ حاضر ہوتا ہے، جلوہ غائب ہو چکا ہوتا ہے — اور پھر وہی عام روشنی، وہی عام منظر۔ منظر سے منظر غائب ہو گیا۔ جان میں سے جان نکل گئی — اور پھر جلوہ آشنائی کے بعد، جلوے کی تلاش شروع ہو گئی۔ پہلے مائل بہ کرم وہ ہوا — پیار کا آغاز اُس نے کیا۔ اُس نے اپنا بنایا۔ اُس نے اپنا جلوہ دکھایا۔ اب وہی روپوش ہو گیا۔ اب ہم اُس کی تلاش میں ہیں۔ اب تلاش کرنے والا پوچھتا ہے،ہر جانے والے سے کہ کہاں رہتا ہے، جلووں والا؟ کیا مقام ہے اُس کے قیام کا۔ خانہ کعبہ میں تو غلافِ کعبہ ہے، مکان ہے، مکین کہاں ہے ؟ وہ کہیں آس پاس ہے۔ سامنے نہیں ہے۔ ہم اُس کی آہٹیں سن رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک آیا نہیں۔ شاید وہ کبھی نہیں آئے گا! نہیں،ایسے نہیں ہے۔ میں نے پہلے کہا کہ عزم کا راہی مایوس نہیں ہوتا۔ شاید یقین بھی اُس کا ہی جلوہ ہے۔ اُمّید اُس کی ہی جھلک ہے۔