ہمارے رشتے،ہماری چاہتیں،ہماری نفرتیں اس لیے  دیر پا ہیں کہ ہم اُنہیں الفاظ میں ریکارڈ کر دیتے ہیں۔ کسی کو دوست کہہ دینے کے بعد ہم اس کی جفائے وفا نُما کو برداشت کرتے ہیں۔ دوستی کا جذبہ اندر سے کئی دفعہ زخمی ہوتا ہے لیکن ہم جذبوں کے سرد ہونے کے باوجود لفظ دوستی کو نبھاتے ہیں۔الفاظ ہمارے تعلّقات کو استقامت بخشتے ہیں۔ ہم رشتوں کو اس لیے بھی قائم رکھتے ہیں کہ انہیں رشتہ کہہ دیا جا چکا ہے۔کہہ دینا ہی قیام ہے۔ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہونے والا، زندگی بھر مسلمان رہتا ہے۔اگر اسلام کا مفہوم سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔کلمہ پڑھ لینے سے ہی مُہرِ ثبات لگ جاتی ہے۔

الفاظ سے ہی قرآن ہے— خدا کے مقدّس الفاظ،بندوں کے نام،روح القدس کا  لایا ہوا پیغام،پیغمبرؐ کے ذریعے سے تمام بنی آدم کے لیے۔ ان الفاظ کی ترتیب اتنی مستقل، کہ اس کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لگا رکھی ہے۔زیر،زبر،نقطہ تک نہیں تبدیل کیا جا سکتا— قرآن کے الفاظ قرآن کے علاوہ استعمال ہوں تو قرآن نہیں — الفاظ خدا کے ہوں تو قرآن ہے۔ نبیؐ کے الفاظ حدیث ہیں۔ بزرگانِ دین کے الفاظ ملفوظات ہیں۔ داناؤں کے الفاظ اقوال ہیں۔جتنی مقدّس زبان سے ادا ہوں گے، اتنے ہی الفاظ مقدّس ہوں گے،اتنے ہی مؤثر ہوں گے۔

ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں۔الفاظ کے حصار میں رہتے ہیں۔الفاظ ہمارا کردار ہیں۔ الفاظ ہمارا ماحول ہیں اور کبھی کبھی  تو الفاظ ہماری عاقبت ہیں۔ الفاظ کانوں کے راستے دل پر اثر کرتے ہیں اور دل پر اثر کے بعد اعضاء و جوارح پر عمل کا حکم نازل ہوتاہے اور یوں انسان کا کردار بنتا رہتا ہے۔اچھے الفاظ پر کچھ خرچ نہیں ہوتا، لیکن اچھے الفاظ سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔الفاظ ہی انسان کو پسندیدہ  یا   ناپسندیدہ بناتے رہتے ہیں۔ الفاظ خوشبو کی طرح ماحول کو معطّر کرتے ہیں۔

ہر سماج اور ہر گروہ کے الفاظ الگ الگ ترتیب رکھتے ہیں۔آپ کسی کے الفاظ یا گفتگو سن کر یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کس پیشے سے تعلق رکھتا ہے۔بازار میں بیٹھنے والے بازاری زبان استعمال کرتے ہیں۔ دارالعلوم کے لوگ اور ہی زبان استعمال کرتے ہیں۔ علماءکی زبان اور ہے۔حکماء کی زبان اور ہے۔اسی طرح جہلاء کی زبان اور ہے۔ فلمی ماحول کے الفاظ اور ہیں، ڈرامے کے اور، نثر کے اور — اور شعر کے اور — شعر کی دنیا میں الفاظ کی ایک بندش بس معنی کے پرت کھولتی چلی جاتی ہے۔ سامعین پر ایک کیفیت طاری کر دینا، شعر کا اعجاز ہے۔دل سے نکلی ہوئی بات دلوں میں ایسے داخل ہوتی ہے کہ سامع کہہ اٹھتا ہے کہ ’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے“۔  بولنے والے کا سوز الفاظ میں سوز پیدا کر دیتا ہے۔درد سے گایا ہوا کلام محفل میں عجب سماں پیدا کر دیتا ہے۔ الفاظ کے معنی پیچھے رہ جاتے ہیں۔گانے والے کا سوز قلوب کو زندہ کر دیتا ہے۔

ایک دفعہ عظیم پریم راگی نے اپنی ایک نجی محفل میں ایک واقعہ بیان کیا۔کہنے لگے کہ ایک رات ایک محفل میں انہوں نے بہت گایا۔دیر تک محفل بپا رہی۔ سامعین محظوظ ہوئے۔ بہت ہُن برسا،لیکن رنگ نہ برسا۔ بس اندر ہی اندر وہ کچھ پریشان ہوئے۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ انہوں نے اپنے گُرو کو یاد کیا۔ دل کا چراغ روشن کر کے کچھ الفاظ اپنے پاس سے مرتب کر کے الاپنا شروع کیا۔ الفاظ تھے:

سیّا ں سے سیّا ں مِلا جا رے بالَم         بالَم سے بالَم  ملِا جارے  سیّا ں

      بس کیا تھا،دل کے چراغ نے دلوں کے چراغ روشن کر دیے۔محفل میں کیفیات کا عجب عالَم پیدا ہو گیا۔بے خودی،محویّت اور سرشاری کا عالم تھا۔گانے والے کا درد بیدار ہو ا کہ سب کا درد بیدار ہو گیا۔ غرضیکہ الفاظ میں جادو بھرنے والی شے اداکرنے والے کا جذبہ ہے۔بولنے والے کا لہجہ بھی الفاظ کے حُسن کو متاثر کرتا رہتا ہے۔میٹھے بول کو کرخت لہجہ مل جائے تو بول میٹھا نہیں رہتا۔

Pages: 1 2 3