مولانارومؒ نے ایک کہانی بیان فرمائی ہے۔ایک دفعہ صحرا میں دو قافلے قریب قریب آ     کر ٹھہرے۔ایک قافلہ مسلمانوں کا تھا،دوسرایہودیوں کا۔صبح کے وقت مسلمانوں نے فجر کی اَذان کہی۔نماز اَدا کی۔اتنے میں یہودیوں کے کیمپ کی طرف سے ایک آدمی ایک تھال میں کچھ تحفے تحائف لے کر مسلمانوں کے کیمپ میں داخل ہوا اور اَمیرِ قافلہ سے ملاقات کی تمنّا کی۔ ملاقات ہوئی تو آنے والے نے کہا:”یہ حقیر سا تحفہ ہمارے سالارِ قافلہ نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے“۔ مسلمان اَمیر نے کہا:”آخر کس لیے؟“  آنے والا بولا: ”جناب! آج ہمارے سردار کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہو گیا، آپ لوگوں کی بدولت۔ ہمارے امیر کی ایک بیٹی اسلام قبول کر چکی تھی اور وہ کسی قیمت پر اسلام کو ترک نہ کرتی تھی۔ ہمارے قافلہ سالار نے بڑی کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔آخر آج صبح آپ کے مؤذّن نے اَذان کہی۔وہ کچھ اتنے کرخت لہجے میں تھی کہ ہمارے سردار کی بیٹی اپنے پرانے دین پر واپس آ گئی“۔  نتیجہ یہ ہے کہ مؤذّن اور مبلغ  کو خوش الحان ہونا چاہیے۔اچھی دعوت کو اچھے انداز سے پیش کرنا ہی اچھی بات ہے۔ رسمِ اذان کو روحِ بلالی ؓ کی کتنی ضرورت ہے،اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

علاقائی الفاظ علاقائی تہذیب و تمدّن کا آئینہ ہیں۔کسی انسان کے ذخیرۂ الفاظ سے یہ معلوم کرنا آسان ہے کہ وہ آدمی کون سے علاقے کا رہنے والاہے اور کون سے پیشے سے تعلق رکھتا ہے۔تشبیہ اور استعارے کے الفاظ بھی علاقے اور زمانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔صحرائی لوگوں کے الفاظ اور ہیں،کوہستانی لوگوں کے اور۔میدانی لوگوں کی زبان مختلف ہوتی ہے۔

بہرحال الفاظ کی حُرمت بولنے والے کے انداز اور لہجے کے دَم سے ہے۔ مقدّس الفاظ کو منزّہ زبان میسر نہ ہو تو لفظ اپنی تاثیر کھو بیٹھتا ہے۔اللہ کا ارشاد ہے کہ اگر اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا تووہ بھی اللہ  کی خشیّت سے لرزنے لگ جاتا۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن پڑھا جاتا ہے اور سننے والے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔صادق کلام کے لیے صادق زبان چاہیے۔

ہم نے قوم ہونے کی حیثیت سے الفاظ کے استعمال پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ہم بے جہت و بے سمت الفاظ کے سیلاب میں ڈوبے جا رہے ہیں۔ہر روز لاکھوں الفاظ اخباروں میں چھپ رہے ہیں۔ کالم کے کالم چھپ رہے ہیں لیکن میٹھے بول ختم ہو رہے ہیں۔”اَز دل خیزد بردل ریزد“ والے الفاظ نظر نہیں آتے۔دلوں کو زخمی کرنے والے الفاظ عام ہیں۔ زخموں کے مرہم کہاں ہیں؟کرامتیں بننے والے الفاظ کہاں غائب ہو گئے؟ انسان کو انسان کے قریب لانے والے الفاظ  گم ہو گئے کیا ؟ گنج شکرؒ ایک میٹھی زبان کی تاثیر کو بھی کہا جا سکتا ہے۔ آج نہ جانے کیوں لوگوں کے پاس شکریہ اَدا کرنے کے لیے نہ وقت ہے،نہ الفاظ۔اپنی کوتاہی پر معذرت کرنے کی نہ توفیق ہے، نہ جرأت۔آج کسی سیاسی اجتماع میں بولے جانے والے الفاظ کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہم لوگ کہاں سے چلے تھے اور کہاں آ گئے۔

                تلخ الفاظ معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔میٹھا بول زندہ کرنا چاہیے۔”زندہ رہو اور زندہ رہنے دو“ کے اصول کو اپنایا جائے تو ہمارا اندازِ کلام یکسر بدل ساجائے۔ لوگ اپنی زندگی میں مطمئن ہو جائیں۔میٹھے بول سننے سے زبان میٹھی ہو جاتی ہے اور یوں مٹھاس سے مٹھاس پیدا ہوتی رہے گی۔ جب سے انسان کا احترام کم ہوا، الفاظ کا احترام بھی کم ہو گیا۔الفاظ کے انتخاب میں ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا — اور نتیجہ یہ کہ ہر دل زخمی، ہرانسان آزردہ۔ ہماری زبان تلوار کی کاٹ سے کم نہیں۔

بعض اوقات صداقت کی زبان بھی اتنی تلخ ہوتی ہے کہ بس خدا کی پناہ۔ اگر کسی انسان کی ایک آنکھ کام نہ کرتی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اُس کے منہ پر ہی اسے کانا     کہہ دیا جائے۔ ہر چند کہ یہ صداقت ہے لیکن یہ ایک بدتمیزی کا مظاہرہ ہے۔ صداقت کا غیر محتاط اظہار بھی باعث ِ پریشانی ہو سکتا ہے۔

ایک دفعہ ایک بادشاہ نے ایک دست شناس و ستارہ شناس انسان کو بلایا۔اس سے اپنا احوال پوچھا،مُنجمّ  نے حساب لگایا،زائچہ بنایا اور بادشاہ کو اطلاع دی:”جہاں پناہ! آپ کے سب عزیز آپ کے سامنے مر جائیں گے“۔ بادشاہ اتنی بُری خبر پر بڑا پریشان ہوا۔ اسے غصہ آ گیا کہ منجمّ نے کیا خبر دی ہے۔اس نے منجمّ   کو گرفتار کروا  دیا۔سلطنت میں منادی کروا  دی گئی کہ کوئی اور منجمّ بادشاہ کے لیے  حساب لگائے۔ایک آدمی حاضر ہوا، اس نے زائچہ بنایا،حساب لگایا اور کہا:”جہاں پناہ! آپ کی عمر طویل ہے۔آپ اپنے سب عزیزوں سے زیادہ عمر پائیں گے“۔ بادشاہ خوش ہو گیا۔ بولا:”مانگ کیا مانگتا ہے“۔ منجمّ نے کہا: ”جہاں پناہ!بس میرے استاد کو رہا کر  دیں“۔ سلطان نے وضاحت چاہی تو منجمّ نے کہا:”گرفتار منجمّ میرا اُستاد ہے۔اُس نے بھی وہی کچھ بتایا جو میں نے بتایالیکن وہ الفاظ کے انتخاب میں محتاط نہ ہو سکا۔آپ عزیزوں سے زیادہ عمر پائیں یا آپ کے عزیز آپ سے پہلے مر جائیں،بات ایک ہی ہے لیکن ادائیگی مختلف ہے“——اور یہی چیز اہم ہے کہ ہم الفاظ کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

الفاظ بھی خاندان رکھتے ہیں۔قصیدے کے الفاظ اور ہوتے ہیں اور مرثیے کے اور،تنقید کے اور، توصیف کے اور، رزمیہ اور،عشقیہ اور۔ غزل کے الفاظ اور ہیں، مثنوی کے اور۔  کیایہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ شرافت کے الفاظ کون سے ہیں۔ بدمزاج ہونا اتنا خطرناک نہیں جتنا بدتمیز ہو جانا، کیونکہ بدتمیز آدمی الفاظ کے غلط استعمال کا مجرم بھی ہے۔

الفاظ کے صحیح استعمال کی توفیق، نعمت ہے۔ یہ نعمت بھی کم انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔ الفاظ سے ماحول کو خوشگوار بنانے کا کام لیا جائے تو بڑی بات ہے۔خالی الفاظ نگلنے اور الفاظ اُگلنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ الفاظ سے ماحول روشن کیا جائے۔الفاظ سے دلوں کو خوش کیا جائے۔ الفاظ سے تعمیرِملّت کے عظیم کام میں شامل ہونے کے لیے  لوگوں کوآمادہ کیا جائے۔ الفاظ حقیقت ہیں۔ الفاظ امانت ہیں۔ الفاظ دولت ہیں۔ الفاظ طاقت ہیں۔انھیں ضائع نہ کیا جائے۔انھیں رائیگاں نہ ہونے دیا جائے۔

Pages: 1 2 3