جمہوریت ایک ایسا نظامِ سیاست ہے جس کی تعریف بس سے باہر ہے۔ دُنیا والوں کے ہاں اِس کی تعریف یہ ہے کہ عوام کی لائی ہوئی،عوام کی حکومت،عوام کی خاطر۔ اگر دِینی معاشرے میں طرزِ حکومت کی تعریف مقصود ہو تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دِینی حکومت دراصل اللہ کی حاکمیت ہے،اللہ کے بندوں پر، اللہ کی خاطر۔ دونوں میں فرق صاف ظاہر ہے۔ جمہوریت اپنے تمام تر فوائد کے باوجود کبھی دِینی حکومت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا دِینی معاشرے میں جمہوری طرزِ حکومت کا قیام صرف نا ممکن ہی نہیں،نامناسب اور نارَوا ہے۔

 اوّل تو اللہ کا ہونا ہی اِنسانوں کے ووٹوں سے نہیں۔ اللہ خود جمہوریت کے مزاج سے بہت بلند ہے۔ لوگ مانیں یا نہ مانیں،وہ اللہ ہے۔ اللہ کے پیدا کیے ہوئے اِنسان اللہ کو نہیں مانتے۔ اُس کی حاکمیّت کو اور اُس کے اِقتدار ِاعلیٰ کو فرق نہیں پڑتا۔ زمین و آسمان کے لشکر اگر باغی بھی ہو جائیں تو بھی اللہ مالک رہتا ہے،خالق رہتا ہے،مالک الملک رہتا ہے۔ فانی مخلوق کو باقی رہنے والی ذاتِ مطلق کے وجود اور اُس کی حکومت کے بارے میں ووٹ دینے کا حق ہی کیا ہے؟

 کسی اِنسان کی مرضی ہو یا نہ ہو،اللہ،اللہ ہی ہے —حیّ وقیّوم، قائم و دائم، اعلیٰ وارفع، قیّم، قدیم۔ اللہ کا مزاج جمہوریت سے بے نیاز ہے۔ وہ کِسی اکثریت کے سامنے جواب دہ نہیں۔ جبھی تو وہ اللہ ہے۔ اللہ تو اللہ ہے ہی سہی ،اللہ کے پیغمبر بھی اِنسانوں کے ووٹ اور کثرتِ رائے سے نہیں بنتے۔ جس طرح اللہ،اللہ ہے،اُسی طرح پیغمبر بھی پیغمبر ہی ہے۔ کثرتِ رائے کا کسی نبی کی نبوّت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

  یہ تو پیغمبروں کی بات ہے۔ اب ذرا غور کریں۔ پیغمبرِ آخر الزّماںؐ کے بارے میں — آپؐ اِمامُ الانبیا ہیں اور آپؐ کا مرتبہ نبیوں کے ووٹ کا محتاج نہیں۔ آپؐ جو کچھ بھی ہیں،اِنسانوں کی رائے سے نہیں،اپنے خدا داد مرتبے سے ہیں۔

 اگر کوئی شخص آپؐ جیسی صفات بھی رکھتا ہو اور اُس کے ماننے والوں کی کثیر تعداد بھی ہو تو بھی اُس کا مرتبہ آپؐ کے مرتبے کے برابر نہیں ہو سکتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ آپ ؐ کا اُمّتی ہونے کا شرف حاصل کر سکتا ہے۔ پیغمبر اِنسانوں کی رائے یا اپنی صفات کے بل بوتے پر پیغمبر نہیں۔ وہ اللہ کے فیصلے سے پیغمبر ہیں،اللہ کے دیے ہُوئے مرتبے سے،اِنسانوں کی رائے یا فرشتوں کی کثرتِ رائے سے نہیں۔ ذات ِمُطلق کی مرضیِ مُطلق سے آپؐ پیغمبر ہیں۔ آپ ؐ کا مقام اِنسانوں کا دِیا ہوا نہیں،اللہ کی عطا سے ہے۔

Pages: 1 2 3