پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں جمہوریت کا قطعاً کوئی دخل نہیں۔آئیے اِسلام کی طرف —مسلمانوں کی رائے سے دِین ِ اِسلام ،اِسلام نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے،اِسلام اِسلام ہے۔ یہ دِین کثرتِ رائے کے احترام سے دِین نہیں بنا۔ یہ اللہ کے حکم سے ہے—اللہ کی مرضی سے، اللہ کی عطا سے، اللہ کے فیصلے سے۔ جمہوریت کا اِس میں دُور تک دخل نہیں۔ اگر دُنیا کی کثیر آبادی غیر مسلم ہو تو اِس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اِسلام خدانخواستہ غلط دِین ہے۔ اِسلام سچّا دِین ہے۔ اِسلام کے ماننے والے اقلیّت میں ہوں، تب بھی یہ سچّاہے۔ اِس کے ماننے والے ختم بھی ہو جائیں،تو بھی یہ دِین سچا دِین ہے۔ جمہوریت دِین کے معاملے میں دخل نہیں دے سکتی۔
اِسلام سے پہلے جتنے دِین تھے،اُنہیں جمہوری رائے عامہ کے حوالے کر کے ختم کر دیا گیا۔ اُنہیں کثرت ِرائے اور مطلب پرست حکمرانوں نے ہی ختم کیا۔ اِسلام نہ کسی بادشاہ کے فیصلے سے بدل سکتا ہے، نہ عوام کی کثرت ِرائے سے۔ اِسلام میں کسی مارٹن لوتھرکی گنجائش ہی نہیں۔ اِس دِین کو” دِین ِ اِلٰہی“ بنانے کا مشورہ دینے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غرق کر دیے گئے۔ اِس دِین میں نہ کوئی ترمیم ہو سکتی ہے، نہ تخفیف۔یہ ہے،ویسے کا ویسا،جیسے تھا۔ کثرت ِرائے کو احکامِ دِین کے تابع رہنا پڑے گا۔ جمہوریت اور ’’دِینیّت “ ہم سفر نہیں۔ اگر عوام کی کثیر تعداد صداقت سے عاری ہو تو دِینی نظامِ صداقت کے لیے ووٹ کون دے گا؟ جھوٹے معاشرے میں سچّا اِنسان کس سے ووٹ مانگے گا؟
روٹی، کپڑے اور مکان کے نام پر جو جمہوریت قائم ہوئی تھی،اُس کا عمل اور اُس کا حشر ہم دیکھ چکے ہیں۔ اِسلام کے نام پر جمہوریت کا قیام دراصل اِسلام اور جمہوریت دونوں سے مذاق ہے۔ اِسلام،اِسلام ہے اور جمہوریت،جمہوریت۔اِسلام صداقت پر مبنی ہے اور صداقت اکثریت میں نہیں۔ جمہوریت اکثریت کی حکومت ہے اور اکثریت دِین سے بیزار ہے۔
غور طلب بات ہے کہ جمہوریت کے ذریعے دِینی معاشرہ کیسے قائم ہو گا؟ دِینی حکومت کیونکر قائم ہو گی؟ اگر اکثریت غلط فیصلہ کرے تو انجام، دِین کے حق میں کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر یزید اوراُس کے ساتھی اکثریت میں ہوں،تو بھی صداقت امامِ عالی مقامؓ کے عمل میں ہے۔ یہی بات تو یزید کے ما ننے والوں کو سمجھ میں نہیں آئی کہ حُسینؓ تنہا ہے اور سچّاہے۔ یزیدی اکثریت میں ہیں اور جھوٹے ہیں،اُن کی حکومت ہے اور وہ جھوٹے ہیں۔
صداقت اور اِمامت کے کربلا سے گزرنے کی وجہ ہی یہی ہے کہ اکثریّت والے کثرتِ رائے کی وجہ سے بھول گئے کہ اِسلام کثرتِ رائے کی بات نہیں،اِطاعت ومحبّت ِ مصطفیٰؐ کی بات ہے۔ اللہ سے محبّت حضورؐکی اِطاعت میں ہے اور حضورِؐکی محبّت اللہ کی اِطاعت میں ہے۔ اگر ووٹ کو ضرورت بنا دیا گیا تو سچ اور جھوٹ کی تقسیم ختم سی ہو جائے گی۔ ایک قادیانی کا ووٹ ایک مفتی ٔدِین کے ووٹ کے برابر ہو جائے گا۔ غضب ہو جائے گا۔ جھوٹا ووٹ ،سچے ووٹ کے برابر—!