اِنسان آسمان کی وسعتوں میں چلا جائے،وہ آسمان کے دروازے کھٹکھٹائے،کائنات کے اَسرار دریافت کرے،آزاد ہے— لیکن اِس آزادی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب اُس کی آزادی اور آزاد رَوی اُس کے لیے مجبوری کا پیغام لاتی ہے اور آسمانوں پر بھی اُڑنے والا آزاد اِنسان مجبور ہو کر زمین پر آتا ہے اور پھر زمین میں سما جاتا ہے۔ اِبتدا مجبور ہے، اِنتہا مجبور ہے۔ درمیان میں آزادی ہے— کتنی آزادی ہو گی؟

 اِنسان اپنے لیے مکان بناتا ہے۔ وہ آزاد ہے۔ جیسے چاہے مکان بنائے،لیکن ایک قسم کا مکان بنانے کے بعد وہ اپنے مکان کو زیادہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ آزادی سے حاصل ہونے والی شے اپنے مالک کو مجبور کر دیتی ہے۔ شادی کرنے تک اِنسان خود کو آزادسمجھتا ہے۔ جس سے چاہے شادی کر لے لیکن شادی کے بعد مجبوری کا اِحساس ہوتا ہے۔ اُس کے لیے آزادی سے حاصل ہونے والی بیوی دراصل اُس کی مجبوری تھی۔ آزاد نظر آنے والی طرزِ حیات  درحقیقت ایک مجبور طرزِ حیات ہے۔ اِنسان سفر کرنے کے بعد سمجھتا ہے کہ اُس کے لیے وہی سفر مقرر تھا جو اُس نے کیا۔ باقی سارے آزاد نظر آنے والے راستے صرف اِمکانات تھے۔ حقیقت صرف ایک راستہ ہے جس پر چلنا اِنسان کی مجبوری ہے۔ اُسے وہ آزادی سمجھے  تب بھی مجبوری ہے اور مجبوری سمجھے تو بھی مجبوری ہی ہے۔

 ہر اِنسان اپنے مزاج میں مجبور کر دیا گیا ہے۔ بخیل،بخیل رہے گا—  سخی،سخی۔ ماننے والےماننے پر مجبور ہیں اور اِنکار کرنے والے اِنکار پر۔ دُنیا میں رونقیں مجبوریوں کے ابواب ہیں۔  مجبوری کے دَم سے  یہ معمورہ آباد ہے۔

  ایک گھر میں پیدا ہونے والے،ایک دستر خوان پر پرورش پانے والے ایک جیسا ذائقہ،ایک جیسی فطرت نہیں رکھتے۔ ہر اِنسان ایک الگ فطرت پر پیدا ہوا—  ایک الگ تجربہ، ایک علیحدہ نصیب۔ غرضیکہ ہر اِنسان اپنے مزاج میں رہن رکھ دیا گیا ہے۔ ہر اِنسان اپنی تشکیل کے مطابق عمل پر مجبور ہے۔ اِنسان کی صفات اُس کو آزادی کی منزل دکھاتی ہیں،لیکن یہ صفات اپنی ذات میں محدود و مجبور ہیں۔ اِنسان کی بینائی لا محدود وسعتوں کو دیکھنے کی خواہش مند رہتی ہے،لیکن بینائی محدود ہے۔ دُور سے نظر آنے والے مناظر قریب سے ویسے نہیں دکھائی دیتے۔ چاند  دُور سے کچھ اور ہے،اور قریب سے کچھ اور۔ ہماری نظر ہی فریب ِ نظر ہے۔جو نظر آتا ہے،وہی نظر کا دھوکا ہے۔اس پر ہی اکتفا نہیں!ہماری بینائی محدود تو ہے ہی سہی،کچھ عرصہ کے بعد کمزور بھی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ بینائی پر ہی کیا موقوف،ہمارے اعضاءمضمحل ہو جاتے ہیں۔ ہم صحت کا خیال رکھتے رکھتے صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ زِندگی کی حفاظت کرتے کرتے ہم غیرمحفوظ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہمارے اثاثے ہمارے اختیارات کی طرح ہم سے چھِننے شروع ہو جاتے ہیں۔ ہماری بینائی کمزور ہو جائے تو چہروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ ہم بیرونی خطرات سے محفوظ بھی ہوں تو بھی خطرات ہمارے اندر گھنٹیاں بجاتے ہیں۔ اندیشے،  گمنام اور بے نام اندیشے،ہمارے یقین کو گھُن کی طرح کھا جاتے ہیں۔

Pages: 1 2 3