ہم آزاد تو ہیں،لیکن یہ آزادی ایک محدود دائرے میں ہے۔ ہم اُس کے محیط سے باہر نہیں جا سکتے۔ جس طرح ہم زمین و آسمان کے حصار میں ہیں،اُسی طرح ہم اپنے حالات و خیالات کے حصار میں ہیں۔ ہم اپنے آپ سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اپنے قد اور اپنی حد سے باہر نہیں جا سکتے۔ سُود و زیاں کی سرحدہمارے اعمال کی حد ہے۔ ہم اپنوں سے بیگانہ نہیں ہو سکتے اور بیگانوں کو اپنا نہیں سکتے۔ ہمارا حاصل محدود ہے اور ہماری تمنائیں لا محدود۔ ہم داستان ِ ہستی مکمل نہیں کر سکتے۔ کسی کا آغاز رہ گیا،کسی کا انجام۔ ہم جس راستے پر ہیں، اُسی راہ میں لُٹ جاتے ہیں۔ ہمارا ہونا،نہ ہونا ہو جاتا ہے اور ہم،ہم نہیں رہتے۔ آزادیاں واہمہ نظر آتی ہیں،لیکن ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اپنے اعمال کی وجہ سے جواب دہ ہوں گے۔ اِنسان اُتنا ہی ہے،جتنی وہ کوشش کرتا ہے۔ یہی اَمر تو قابلِ غور ہے۔ مجبوریوں کے حصار میں رکھے ہوئے اِنسان کو آزادی کا پیغام ہے۔ عجب مقام ہے۔
اِنسان کو جتنی آزادی دی گئی ہے،اُتنا ہی اُسے جواب دہ بنایا گیا ہے۔ زِندگی کے محدود ایّام میں ہمارا عمل اپنے نتیجے اور اپنی نیّت کے حوالے سے جواب دہ ہے۔ کھانا کھانا تو فرض ہے یعنی مجبوری ہے،لیکن حلال حرام کی تمیز میں اِنسان آزاد ہے۔ کھانا تو کھائے گا اِنسان،لیکن کیسے؟ — حلال یا حرام۔ رِزق کے اِنتخاب میں ہم جواب دہ ہیں۔ اِنسانوں سے سلوک میں ہم جواب دہ ہیں۔ عبادات کے سلسلے میں ہم جواب دہ ہیں۔ اِنسان میں جتنی صلاحیت ہےاُتنا ہی وہ جواب دہ ہے۔ اندھا آدمی بینائی کے حوالے سے جواب دہ نہیں۔ ہمیں جو ملا،اُس کے اِستعمال میں ہم جواب دہ ہیں۔ ہمارا فطری حاصل مجبوری ہے اور اِس حاصل کے اِستعمال میں ہم آزاد ہیں، جواب دہ ہیں۔
آزادی یہ ہے کہ ہم مجبوریوں کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے بینائی سے کیا دیکھا— نیک مقامات کی زیارت یا نفس کے عشرت کدے۔ ہم نے محدود زندگی کو کیسے استعمال کیا۔ گلہ شِکوہ، شکایت، مایوسی، بغاوت یا اُسے شکر، اُمید، اِطاعت اور عبادت میں صَرف کیا۔ پانے والے رازِ حیات پا گئے اور کھونے والے اپنا آپ برباد کر کے رخصت ہوئے، ویرانیاں چھوڑ گئے۔ ایک اِنسان نے کہا کہ جب مَر ہی جانا ہے تو عمل کیا ہے۔ دُوسرے نے کہا ،چو نکہ مَر جانا ہے،اِسی لیے تو عمل ضروری ہے۔ کچھ لوگ اِسی مجبور زِندگی میں بے بسی محسوس کرتے ہیں اور مایوسی سے نکل نہیں سکتے۔ کچھ لوگ اِسی مجبور زِندگی میں اُمّید کے چراغ روشن رکھتے ہیں، عمل میں سرگرم رہتے ہیں اور اِس زِندگی اور آنے والی زِندگی کو کامیاب بنا لیتے ہیں۔ مجبوری اور آزادی اِنسان کے اپنے اندازِ فِکر کے نام ہیں۔ خالق کے باغی آزادیاں چاہتے ہیں۔ اُنہیں قدم قدم پر مجبوری روک لیتی ہے۔ تسلیم کرنے والے مجبوریوں میں مطمئن ہیں۔ اُنہیں قدم قدم پر نئی آزادیوں سے تعارف ہوتا ہے۔
اِنسان کا عجب حال ہے۔ زندگی غیرمستقل ہے اور اِس میں مستقل رہنے کی آرزو انسان میں پکتی رہتی ہے۔ اِنسان ریٹائر ہونے سے پہلے مستقل ہونا چاہتا ہے۔ اِس زندگی کا مزاج ہی بے ثباتی ہے۔ اِس میں کسی کو ہمیشہ قیام نصیب نہیں ہوا۔ آنے والا ضرور جائے گا اور پیدا ہونے والا ضرور مرے گا،لیکن اِسی مجبور سر زمینِ حیات میں آزادی کے گلاب کھلتے رہتے ہیں۔ بات اِحساس کی ہے،انداز کی ہے۔ زندگی کے نصیب میں مجبوری ہے اور اِس کے مزاج میں آزادی ہے۔ ہم نہ ہمیشہ سو سکتے ہیں،نہ ہمیشہ جاگ سکتے ہیں۔ زندگی کے ابدی نظام کو خوشی سے قبول کرنے والا ہی راحت حاصل کرتا ہے۔ زندگی کی گھٹن اور مجبوری کو اہل ِ دل حضرات، اہل ِ عشق،اہل ِ محبّت حضرات نے آزادی کا نغمہ بنا کر دکھایا ہے۔ فنا کی بستی میں بقا کے مسافر مجبوریوں سے آزاد کر دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے وجود سے نکلیں تو چاہنے والوں کے دِل میں یاد بن کر ہمیشہ کے لیے موجود رہتے ہیں۔ محبّت مجبور کو مختار بنا دیتی ہے۔ عشق مجبوریوں کے حصار سے آزاد ہو جاتا ہے۔ بندۂ آزاد،بندۂ محبّت ہے،شکم پرست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجبور۔