اِنسان عجب مخلو ق ہے۔ خیال کو حقیقت بناتا چلا جاتا ہے اور حقیقت کو خیال۔ بات آسان ہے۔ مستقبل خیال ہے، ماضی خیال ہے اور حال حقیقت ہے۔ اِنسان مستقبل کو حال اور حال کو ماضی بنا دیتا ہے۔ خود بخود ہی سب کچھ ہو جاتا ہے۔ بڑے غور و فکر، بڑی سوچ بچار کے بعد ایک مقصد ِ حیات بنایا جاتا ہے اور پھر غور و فکر کے بعد اُس مقصد کی بے مقصدیّت دریافت کر لی جاتی ہے اور یوں زندگی علم وعمل،خیال و حقیقت کے مابین کھیلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔

                یہاں تک تو بات صحیح ہے کہ اِنسان پردے سے باہرہے، اورمستقبل اور   ماضی دونوں پردے میں ہیں۔ ایک تخیل کے حجاب میں ہے اور دُوسرا یادوں کے پردے میں۔ یہی پردہ اِنسان کو گوارا نہیں۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اب اور کیا کیا دیکھناباقی ہے۔ وہ اُس کو بھی دیکھنا چاہتا ہے جسے ایک  بار  دیکھا جا چکا ہے۔ یہ اِنسان کے بس میں نہیں۔ جو دیکھا گیا،سو  دیکھا گیا، اور جو دیکھا جائے گا،سو دیکھا جائے گا۔ جو ہے،سو ہے۔

                یہ کہہ دینا آسان ہے لیکن اِسے سمجھنا مشکل ہے۔ جس کا حال بد حال ہے،وہ کسی مستقبل کے خوشحال ہونے کا تصور کیسے کر سکتا ہے؟

                مستقبل کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ کسی حال کے حوالے سے نہیں آتا۔ وہ اپنا حوالہ خود ہے۔ وہ جیسے چاہے،آئے۔عاصیوں کے لیے مغفرت لائے، غریبوں کے لیے دولت لائے، عزت کو ذِلّت میں بدل دے، یقین کو وسوسہ، وسوسوں کو یقین بنا دے۔ یہ اُس کی مرضی ہے۔ مستقبل کی مرضی،بس خدا کی مرضی ہے۔ خدا کی رحمتوں سے مایوس نہ ہونے کا حکم ہے،بار بارحکم ہے،یعنی اپنے مستقبل سے مایوس ہونے کی اجازت نہیں۔مستقبل پر بھروسہ رکھو،مستقبل پر اُمید رکھو،مستقبل رحمت کا نام ہے۔ اِنسان کو بات سمجھ میں نہیں آتی۔ رحمت ہمیشہ ہونے والی ہوتی ہے۔ جب ہو جائے تو اِنسان اُسے اپنا حق کہہ کر اپنی محنت اور اپنی عقل کا پھل سمجھتا ہے۔ کشتی ہچکولے کھا رہی ہو تو اللہ کو پکارا جاتا ہے۔ جب کشتی کنارے لگ جائے تو اپنی قوّتِ بازو کے قصیدے کہے جاتے ہیں۔ بہت کم اِنسان ایسے ہیں،جو اپنے حاصل کو رحمت ِ پروردگار کی عطا سمجھتے ہوں۔ بہر حال،حال کے بدحال ہونے کے باوجود مستقبل کے خوشحال ہونے کی اُمّید ترک نہ کرنی چاہیے۔

                ماضی کے اعمال کے حوالے سے بھی اُمّید اور مایوسی کا پیدا ہونا لازم ہے۔ جب ماضی کے گناہ یاد آتے ہیں تو ندامت کے بوجھ سے سر جھک جاتا ہے۔گناہ کے لیے ہی تو مغفرت کا لفظ ہے۔ توبہ گناہ کو ختم کر دیتی ہے۔ توبہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اِنسان اُس راہ سے ہٹ جائے۔ گناہ ترک کرنے کا اِرادہ توبہ کا حصہ ہے۔ گناہ نہ کرنے کا فیصلہ توبہ کی عطا ہے۔ توبہ قبول ہوجائے تو گناہ دوبارہ سرزد نہیں ہوتا،بلکہ یادِ گناہ بھی نہیں رہتی۔ اِس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حال کے عمل سے ماضی کا عمل بدل سکتا ہے۔ ماضی کفر ہو تو حال کلمہ پڑھ کے مومن ہو سکتا ہے۔ حال مومن ہو جائے تو ماضی بھی مومن—!

Pages: 1 2 3 4