؎ دلِ ہر قطرہ ہے،سازِ اَنا البحر
ہم اُس کے ہیں،ہمارا پوچھنا کیا
ایک بار دِل سے تسلیم کر لیا جائے تو حجاب اُٹھ جاتا ہے۔ پردہ اُٹھ جائے تو ماضی،حال اور مستقبل ایک شے کے نام ہو کے رہ جاتے ہیں،اور وہ شے اَمرِ الٰہی ہے۔ اَمرِ الٰہی کو توفیقِ الٰہی سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔