اِنسان کی پیدائش سے پہلے اِبلیس نے اپنے تکبّر کی وجہ سے اپنی صدیوں کی محنت کو خود ہی رائیگاں کر لیا۔ اُس کو افسوس تک نہ ہوا۔ اُسے معافی کا راستہ نہ سوجھا اور وہ راندۂ درگاہ ہوا۔   اِنسان کو اللہ نے معافی کا راستہ بتایاہوا ہے۔ اِنسان اپنی رائیگاں ہونے والی محنتوں پر  افسوس کرے تو اُس کو محنت کے لیے نئے راستوں سے تعارف ہو سکتا ہے۔ اپنی محنت کی قدرو حفاظت نہ کی جائے تو سب محنت رائیگاں ہے۔ اِرشاد ہے کہ افسوس ہے اُس بُڑھیا پر، جس نے تمام عمر سُوت کاتا اور آخر میں اُسے اُلجھا دیا۔

وہ لوگ جنہوں نے باطل کے راستوں پر محنت کی، اُن کی محنت اُن کے لیے ندامت کے علاوہ کیا لائی؟ محنت کرنا  تو  اِنسان کی سرشت میں ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ کس کام کے لیے محنت کرتا ہے۔ ویسے تو ایک جواری بھی  جُوا خانے میں محنت کرتا ہے۔ وہ اپنے ہارے ہوئے مال کی برآمدگی کے لیے محنت کرتا ہے اور اپنا پیسہ، وقت اور عاقبت برباد کر بیٹھتا ہے۔

 اِسی طرح  ہم دیکھتے ہیں کہ وہ طالب علم جو سیاستدانوں کے لیے محنت کرتے ہیں، اپنی عمر اور ماں باپ کا پیسہ ضائع کرتے ہیں۔ امتحان میں ناکامی لے کرگھروں کو واپس لوٹتے ہیں۔ اُن کی محنت نے رائیگاں ہو کر اُن کے لیے ندامت لکھ دی۔

  کارآمد کیا ہے اور رائیگاں کیاہے؟ اِس کا فیصلہ صرف وہی طاقت کر سکتی ہے جس نے اِنسان کو پیدا کیا، اور اُس طاقت کا ارشاد ہے کہ اے اِنسان ! اپنے ربّ کی طرف محنت کر! ربّ کی طرف محنت کیا ہوتی ہے؟ربّ کی طرف محنت، ربّ کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبرؐ کے راستے پر چلتے رہنے کا نام ہے۔ جو لوگ بے جہت اور بے سمت محنتیں کرتے ہیں، اُن کے لیے کیا انجام ہو سکتا ہے! گناہ گار کی محنت کا انجام تکمیلِ گناہ ہے اور تکمیلِ گناہ ہی اِنسان کی عاقبت خراب کرنے کے لیے کافی ہے۔

اِن محنتوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو پھر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اِنسان نے باغی  رستوں پر جو محنت کی ہے، اُس کا ریکارڈ اِسی دُنیا کے عبرت کدوں میں محفوظ ہے۔ ویرانیا ں چھوڑ جانے والی محنت پر افسوس ہوتا ہے، اور اِس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے ربّ کے راستے کی طرف محنت کی، وہ مرنے کے بعد بھی سرفراز ہیں۔ اُن کے آستانے، اُن کے مزار،اُن کی تصانیف اور اُن کے ملفوظات آنے والی نسلوں  کے لیے مینارۂ    نور   کا    کام دیتے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کو بتا گئے کہ محنت وہی ہے جو ربّ کی طرف ہو۔ یوں تو کائنات کا ذرّہ ذرّہ مصروفِ محنت ہے اور محنت کرتے کرتے اِنسان بدنامی کما لیتا ہے، ناکامی کماتا ہے،عبرت ناک انجام کماتا ہے اور ایسی موت حاصل کرتا ہے جو دیکھنے والوں کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ جتنے لوگ دُنیا میں سرفراز ہوئے، وہ سب وہی تھے،جو حکم اور اَمر کے اندر رہ کر محنت کرتے رہے۔ وہ آہستہ آہستہ لیکن یقین کے ساتھ اپنی محنتوں کو دِین اور دُنیا کی کامیابی کے لیے استعمال کرتے رہے۔

محنت ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اِنسان کے پاس اُڑنے کے لیے پَر نہیں ہیں لیکن محنت کے ذریعے اُس نے بلند پروازپرندوں کے صرف نشیمن ہی سر نہیں کیے، بلکہ  اُن کی پرواز کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ محنتی اِنسان ایک ایک قدم چل کر پہاڑ کی چوٹیوں پر پہنچا۔  دن رات کی محنت سے اُس نے مخفی کو آشکار کیا۔

Pages: 1 2 3 4