کتنے لوگ محنت کرتے ہیں اور جنہیں خبر نہیں کہ وہ کیوں محنت کر رہے ہیں۔ وہ مشین ہیں، روبوٹ ہیں اور جنہیں معلوم نہیں کہ کس نے اُنہیں ناکام اور نا مراد منزل کی طرف گامزن کر دیا۔ وہ ہنستے گاتے اور محنت کرتے کرتے جہنّم واصل ہو جاتے ہیں۔
جہنّم میں جانے والے کم محنت نہیں کرتے۔ بس فرق یہ ہے کہ اُنہیں اُن کی محنتوں نے برباد کر دیا، اور اِس کے برعکس سرشاریٔ جنّت حاصل کرنے والے لوگ ایک ضابطے کے اندر رہ کر محنت کرتے ہیں اور اُن پر اِنعامات کی بارش ہوئی۔
اللہ کے ذکر کے لیے محنت کرنے والے، مذکورِ ذاتِ حق ہو گئے۔ خدا کے راستوں کی طرف بلانے والے خود خدا کاراستہ ہو گئے۔توحید بیان کرنے والے،رسالت بیان کرنے والے،صداقت بیان کرنے والے، اُس بیان کاحصہ بن گئے۔ اُن کے نقش ِ قدم وقت نے محفوظ کر لیے۔ اُن کے آستانے آباد رہ گئے۔ ہر زمانے میں اُنہی کے جلوے رہے۔ حکومتیں آتی ہیں، چلی جاتی ہیں۔ بادشاہ آتے ہیں،بدل جاتے ہیں۔ چراغاں کرانے والے تاریکیاں چھوڑ کر رُخصت ہو جاتے ہیں۔ کتنے ظلِّ سبحانی آئے، اپنا حکم نافذ کرنے کے لیے محنت کرتے رہے اور آخرِ کار فنا کی پستیوں میں غرق ہو گئے۔
درویش لوگوں نے اللہ کی طرف محنت کی، اُس کے راستوں پر چراغ جلائے۔ اُس کے راستوں پر چلنے والی سنگتیں تیار کیں۔ اُس کے راستوں کو آسان بنایا۔ وہ لوگ رہتی دُنیا تک نیک نامی کی آغوش میں رہیں گے۔
زمانے بدل جائیں — صدیاں بیت جائیں — درویش کا آستانہ،اُس کی رونقیں اور برکتیں ختم نہ ہوں گی۔ یہ اللہ کریم کا اِحسان ہے کہ اپنی راہ پر محنت کرنے والوں کو اپنی راہ کی آسانیاں اور اپنی راہ کے جلوے عطا فرماتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کی سرپرستی فرماتا ہے، وہ اُن لوگوں کو آمادۂ سفر کرتاہے،اُن لوگوں کے سفر میں اپنی عنایات کو شریکِ سفر رکھتا ہے اور اُن کو اپنے قرب کی منزل عطا فرماتا ہے۔ یہ محنت سرفراز کرتی ہے۔
کیا یہ مناسب نہیں کہ اِنسان اپنی محنت کے مقاصد سے باخبر ہو، اِس میں اصلاح کرے اور اپنی محنت کا قبلہ درست کرے۔ اِس دُنیا میں سب سے زیادہ مقبول محنت اُس ہستی کی ہے، جو سب سے زیادہ مقبول ہے۔ جن کی شان میں اپنے تو اپنے، بیگانے بھی نعت کہتے رہے ہیں۔ ہر وہ محنت جو آپﷺ کے دامن سے وابستہ کرے، مبارک ہے اور ہر وہ محنت جو آپؐ کے قرب سے محروم کرے، بُولہبی ہے۔
نیکی کا راستہ محنت کا راستہ ہے۔ نیکی کو روکنے کا راستہ بھی محنت کا راستہ ہے، لیکن انجام کا فرق جنّت اور دوزخ کا ہے۔ محنت کے نتیجے میں اتنا بڑا فرق! — کیا قابلِ توجہ نہیں؟ انسان آنکھوں پر پٹی باندھ کے مشین کی طرح محنت کرتا جائے تو اِس کا نتیجہ وہی ہو گا جو ایک مشین کا ہوتا ہے۔ پیسہ کمانا، پیسہ گننا، پیسہ جمع کرنا، بڑا محنت طلب کام ہے اور یہ بڑے ہی عذاب کا باعث ہے۔ محنت وہ، جو مالک کی مرضی کے مطابق ہو۔ کوشش وہ، جو زندگی دینے والے کی منشا کے مطابق ہو۔
خدا کرے کہ ہم لوگ اپنی محنتوں کاچہرہ بھی دیکھیں اور محنتوں کے انجام کا چہرہ بھی دیکھ لیں۔ اِس مختصر زندگی میں یہ چھوٹا سا کام کرنا بہت ضروری ہے۔ محنت اگر آسمانوں کو مسخر کر لے تو بھی اِتنی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ محنت کے ذریعے اِنسان دِل کی دُنیا کا ر ستہ دریافت کرے، اور یہ کام اللہ کے فضل سے ہو گا — کیونکہ دِل ہی اللہ کا راز ہے۔ اللہ کا راستہ مومن کے دِل کے دروازے سے شروع ہوتا ہے۔