نصیحت کا لفظ طلسماتی لفظ ہے، جو زندگی کے سفر میں کسی وقت بھی اپنا جادو جگا سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ نصیحت کرنے والا نصیحت کے عمل سے خود کوئی فائدہ حاصل نہ کرے، ورنہ سب کچھ بیکار ہو جائے گا۔ مخلص کی تعریف ہی یہ ہے کہ آپ کے ساتھ، آپ سے زیادہ مہربان ہو — وہ جو اپنے آپ کو بھول کر آپ کو یاد رکھے — وہ جو تم سے تمہاری بہبود کے علاوہ کسی اور معاوضے کا متمنّی نہ ہو۔ نصیحت کرنے والا مخلص نہ ہو تو نصیحت بھی ایک پیشہ ہے۔ پیشہ ور کی نصیحت، نصیحت نہیں کہلائی جا سکتی ہے —!!
بہرحال کہنے کا مدعا یہ تھا کہ نصیحت کا عمل قدیم ہے،آسان ہے۔ہم نے اسے اپنے لیے چن لیا — اور اب یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ ہم ہر وقت ہر آدمی کو ہر طرح کی نصیحت ہی کرتے رہیں — نہیں — ایسے نہیں— ! نصیحت کا پہلا اصول یہ ہے کہ نصیحت کرنے والا نصیحت سننے والے سے کچھ نہ کچھ تعلق ضرور پیدا کرے — بے تعلق نصیحت یا بے تعلق تبلیغ ایسے ہے جیسے زبانِ غیر میں تقریر کرنا — !
سب سے موزوں نصیحت تو یہی ہے کہ نصیحت سننے والے میں نصیحت سننے کا شوق ہو — ورنہ — ورنہ وہی کہانی کہ ایک دفعہ ایک بندر تھا — بندر اور بِیا پاس پاس رہتے تھے — پڑوسی تھے — بِیا سارا سال خوبصورت گھونسلہ بناتا اور سردی میں اُس میں آرام کرتا۔ بندر تو بس بندر ہی تھا۔ ایک دفعہ کیا ہوا کہ بندر سردی میں ٹھٹھر رہا تھا — اور بِیا اَپنے آشیانے میں لطف اندوز ہو رہا تھا۔ بِیا کو کیا سوجھی کہ وہ بندر کو دیکھ کر نصیحت کرنے لگا۔ بولا: ”بھائی بندر! میں نے تمہیں ہزار بار کہا تھا کہ موسمِ سرما آنے والا ہے۔ اپنے لیے آشیانہ بنا لو ،مگر تم نے ایک نہ مانی“۔ بندر یہ سن کر ناراض ہو گیا — اُس نے کہا:”اتنے سے پرندے! اتنے بڑے بندر کے سامنے زبان کھولتے ہوئے شرم نہیں آتی — تجھے نصیحت کا حق کس نے دیا — لا، میں تجھے گھونسلہ بنا کے دکھاؤں“۔ بندر نے بندروں والا کام کر دیا — اور بِیا کا گھونسلہ ٹوٹ گیا — توڑ دیا گیا — بندر نے اپنا آشیانہ نہ بنایا — ناصح کا آشیانہ توڑ دیا— !!
بس یہی انجام کرتے ہیں نصیحت پر ناراض ہونے والے، ناصح کا — کبھی صلیب پر چڑھا دیتے ہیں — کبھی دار پر — کبھی اُس پر کربلائیں نافذ کر دیتے ہیں — کبھی اُسےؐ وادئ طائف سے گزار دیتے ہیں — کبھی کوئی صعوبت،کبھی کوئی — لیکن سلام و دُرود ہو نصیحت کرنے والوں پر، جن کے حوصلے بلند اور عزائم پختہ ہوتے ہیں — جو گالیاں سن کر دُعائیں دیتے ہیں اور جو غافلوں سے غفلت کی چادریں اُتار دیتے ہیں اور انہیں بے حسی کی نیند سے جگاتے رہتے ہیں۔ ہم بھی اُن لوگوں کے ساتھ عقیدت کے طور پر نصیحت کرنے کا عمل اِختیار کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔
اِس سے پہلے کہ کوئی نصیحت کی جائے، یہ کہہ دینا بھی ضروری ہے کہ دُنیا میں کوئی ایسی نصیحت نہیں جو پہلے کی نہ گئی ہو۔ کتابیں، لائبریریاں نصیحتوں سے بھری ہوئی ہیں — تو کیا کتابیں پڑھ لینا ہی کافی ہے؟ — نہیں — !اِس کے علاوہ بھی کچھ ہے — بہت کچھ ہے۔یہ وقت کا عبرت کدہ ہے — یہاں آنکھ کھول کر چلنا چاہیے، اپنی من مانی نہیں کرنی چاہیے — پہلے من مانیاں کرنے والے کہاں گئے؟ عشرت کدے عبرت کدے کیوں بن گئے—؟محلّات کھنڈرات ہو گئے — دُنیا میں جھوٹ بولنے والے کیا کیا نشانیاں چھوڑ گئے — ویرانیاں ہی نشانیاں ہیں—!
سب سے بڑی نصیحت تو یہی ہے کہ نصیحت سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے — کان کھول کر رکھے جائیں — آنکھیں اِنتظار سے عاری نہ ہوں — دِل احساس سے خالی نہ ہو۔ عقل کوعقلِ سلیم بننے میں کسی رکاوٹ سے دوچار نہیں ہونے دینا چاہیے۔ جب اِنسان نصیحت سننے پر آمادہ ہو جائے تو اُسے بہتی ہوئی ندیوں میں کتابیں ہی کتابیں نظر آئیں گی— نصیحت ہی نصیحت !!