ندی راز ہے — گہرا راز — پہاڑ کا پیغام — سمندر کے نام — رواں دواں اپنی منزلِ مراد کی طرف— نصیحت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اُولی الالباب ہیں۔ ندی ہی پر موقوف نہیں، پہاڑ بھی انسان کے لیے ایک نصیحت آموز داستان رکھتے ہیں — ایک عزم — ایک قوت — ایک داستانِ دلبری! پہاڑوں میں نصیحتیں ہیں، بادلوں میں نصیحتیں ہیں — زمین کے اندر نصیحت،زمین سے باہر نصیحت — درختوں میں زبانیں ہیں — گویائی ہے — نصیحت ہے — جلوہ ہے، جلوہ گر بھی ہے—!!
زمین کے اندر نصیحت کی ایک داستانِ دلپذیر میرتقی میؔر نے ایک رباعی میں پیش فرمائی ہے کہ پرانے قبرستان میں ایک کاسۂ سَر پر پاؤں جا پڑا — بس ٹوٹ گیا — اور ساتھ ہی یہ آواز آئی—
؎ آئی صدا کہ دیکھ کے چل راہ ، بےخبر
میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُرغرور تھا
لیکن اِس سے بھی زیادہ اثر انگیز بیان بابا فریدؒ کے ایک اشلوک میں ہے۔ جس کے پیچھے ایک کہانی ہے جو کچھ یوں سی ہے۔ ایک دفعہ بابا جی فریدؒ اپنے سیلانی دَور میں ایک بستی میں سے گزرے۔ دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت ایک غریب عورت کو مار رہی ہے۔ بابا جیؒ نے وجہ دریافت فرمائی۔ اطلاع ملی کہ یہ اَمیر عورت ایک عشرت گاہ کی مالکہ ہے اور غریب اس کی ملازمہ — بلکہ مشّاطہ — اُس دن نوکرانی نے مالکن کو کاجل ڈالا اور اُس کے ساتھ کوئی ریت کا ذرّہ بھی تھا جو اُس کی خوبصورت آنکھوں میں بڑا تکلیف دہ لگا ۔ اِس لیے اُس نے خادمہ کو مارا۔ بابا جیؒ اپنے سفر پر گامزن ہو گئے۔ ایک مدت کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور اُسی بستی کے قبرستان میں قیام کے دوران بابا جیؒ نے ایک عجیب منظر دیکھا ۔ ایک چڑیا نے ایک انسانی کھوپڑی میں اپنے بچے دیے ہوئے تھے۔ وہ چڑیا آتی اور چونچ میں خوراک لاکر بچوں کو کھلاتی، بچے کھوپڑی کی آنکھوں سے باہر منہ نکالتے اور خوراک لے کر اندر چلے جاتے ۔ انسانی کھوپڑی کا یہ مصرف بابا جی کو عجیب سا لگا۔ انہوں نے یہ دیکھنے کے لیے مراقبہ کیا کہ یہ کھوپڑی کس آدمی کی ہے ۔ انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو اُسی خوبصورت عورت کی ہے جو آنکھ میں ریت کا ذرّہ برداشت نہ کرتی تھی— آج اُس کی آنکھوں میں چڑیا کے بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ بابا جیؒ نے اشلوک کہا:
؎جن لوئیں جگ موہیا سو لوئیں میں ڈِٹھ
کجرا ریکھ نہ سہندیاں تے پنچھی سوئے بِٹھ
(جو آنکھیں جگ کو موہنے والی تھیں، آج میں نے وہ آنکھیں دیکھ لیں — کاجل میں ریت کا ذرّہ برداشت نہ ہوا،آج پنچھی کے بچے اُسی آنکھ میں بیٹھے ہیں۔)
بہرحال نصیحت ہر طرف لکھی گئی ہے — ہر سانس نصیحت — ہر جلوہ نصیحت — تنہائی نصیحت،محفل نصیحت — ذرّہ ذرّہ اور قطرہ قطرہ نصیحت۔ قبول کرنے والا ہو تو عطا کرنے والا دُور نہیں۔ ذوقِ سجدہ مل جائے تو آستانۂ مسجود پاس ہی ہے— آنکھ منتظر ہو توجلوہ بے تاب ہو کر سامنے آئے گا — خبر دینے والا ایک بڑی خبر لے کر پھر رہا ہے — آپ کے لیے، آپ کے فائدے کے لیے — آپ کی بچت کے لیے! مخبر کا انتظار کرو — آپ میں سے ہی آپ کے آس پاس آپ جیسا انسان، کوئی انسان، نہ جانے کب کہاں بولنا شروع کر دے — سماعت متوجہ رکھو — آپ کے اپنے ہی اندر سے آواز آ سکتی ہے۔ دوسروں کی خامیوں پر خوش ہونے والو —! کوئی اپنی خوبی ہی بیان کرو ! اِسلام سے محبّت کرنے کا دعویٰ کرنے والو—! مسلمانوں سے نفرت نہ کرو ! آپ کی آنکھ میں کھٹکنے والے خار کسی اور نگاہ کے منظورِ نظر بھی ہو سکتے ہیں۔ نصیحتوں پر ناراض نہ ہونا چاہیے — بندر اور انسان کا فرق قائم رکھنا چاہیے —!!