لڑکیوں، عورتوں اور خواتین کو بار بار سمجھایا جاتا ہے کہ یہ دنیا بابل کا گھر ہے اور وہ دنیا سسرال ہے، اور ہر لڑکی کو سسرال جانا ہی ہوگا — دراصل یہ اطلاع ہے، یہ اعلان ہے، یہ وارننگ ہے کہ جانا ہی ہوگا — پردیس میں رہنے والو! اسے غلطی سے اپنا دیس سمجھنے والو! یہ سمجھ لو کہ جانا ہی ہوگا — اس کے بغیر چارہ ہی نہیں — دیس پردیس ہے اور ہم سب پردیسی ہیں۔ ہم سنتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ ہمیں دعوت ہے کہ اے آنکھوں والو! سیر کرو دنیا کی، اور دیکھو عاقبت اُن جھوٹے مالکوں کی، جن کی اصل ملکیت کچھ نہ تھی۔ یہ عبرت کدہ ہے، وقت کا عبرت کدہ — آج کے کھنڈر کل کے محلّات تھے۔ آج جہاں اُلّو بولتے ہیں، وہاں کل تک رونق تھی، روشنی تھی، ظلّ ِ سبحانی کے جلال کا شہرہ تھا۔ آج وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ پردیسی اپنے دیس کو چلے گئے اور چھوڑ گئے ویرانیاں اپنے بعد — ہم سمجھتے نہیں، مالک بن بیٹھتے ہیں۔ زمین کا انتقال کراتے کراتے ہمارا اپنا انتقال ہو جاتا ہے، اور یہ دیس — نئے پردیسیوں کا انتظار کرتا ہے۔
بڑے بڑے شہروںمیں تو ویسے بھی پردیسی رہتے ہیں۔ دُور سے آنے والے یہاں مقیم ہوتے ہیں۔ پلاٹوں کی سیل (SALE) ہوتی ہے اور پھر وہی حال، یعنی وہی بُرا حال —
جانا ہی ہو گا، اپنے گاؤں — اپنے گاؤں کے ویران قبرستان میں۔ نامعلوم دیس کا پہلا سٹیشن — اور پھر منزلیں — منزل دَر منزل — سفر دَر سفر اور پھر آئے گا اپنا دیس، اصل دیس — جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا — اس واقعہ کو ہر روزہر آدمی دیکھتا ہے — دیکھتا ہے اور بھول جاتا ہے اور اُس وقت تک بھولے رہتا ہے جب تک اسے زور سے جھنجھوڑا نہ جائے کہ آگئی تیرے سفر کی باری — گھر جانے کی گھڑی اور اب جانا ہی ہوگا، ناگزیر ہے۔
غور سے دیکھا جائے تو کرائے کے مکان میں رہنے والا ساری عمر خود کو پردیسی سمجھتا ہے،نہ جانے کب اسے مکان سے نکال دیا جائے — آدھی سے زیادہ قوم کرایہ دارہے، پردیسی ہے۔
ملازم پیشہ انسان کا کوئی دیس نہیں۔ آج یہاں کل وہاں۔ ان لوگوں کی زندگی کا اندازہ لگائیں کہ بیوی کہیں، خود کہیں!
سوچنے کا مقام ہے۔ ریل گاڑیوں کو دیکھیں، کھچا کھچ بھری ہوئی۔ پردیسی آ رہے ہیں، پردیسی جا رہے ہیں۔ ہزارہا بسیں ہمہ وقت سفر میں ہیں۔ پردیسی آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ ہوائی جہازوں کی بکنگ — ٹکٹ نہیں ملتا — پردیسیوں کو۔ یا اللہ! تمام مسافروں کا کون سا دیس ہے! یہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں!