ہمارے فکری اور سیاسی پیشوا بھی دُور بستے ہیں۔ ہم اُن کے دیار کو بھی اپنے لیے دیس سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے آپ سے یا تو مفرور ہونا چاہتے ہیں یا ہم سمجھتے ہی نہیں کہ ہمارا دیس کیا ہے۔ بہرحال ہمارے محبوب کی گلیاں ہی ہمارا دیس ہیں۔
دراصل ہم اِس فانی جہاں میں بے قرار ہی رہتے ہیں۔ ہم سب پردیسی ہیں۔ جب تک ہم اپنے دیس نہ جائیں، ہمیں چین نہیں آئے گا — ہمارا اصل دیس ہمارے پاؤں کے نیچے مٹی میں ہے، یا سَر کے اوپر آسمان میں ہے۔ وجود مٹی سے آتا ہے، مٹی کے دیس میں لوٹ جائے گا۔ رُوح آسمان یا لامکان سے آتی ہے، وہ وہاں پرواز کر جائے گی — اور پھر قرار آئے گا، بے قرار پردیسی کو — !
ماٹی پر ماٹی چلے، چلے ہزاروں رنگ
انت کو ماٹی جاملے، ماٹی ہی کے سنگ