اقبالؒ نے قیادت کو جِلا بخشی— ہر قسم کا قائد اقبالؒ کا پیروکار ہے— اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے فرمودات ہر قائد کی زبان پر رہتے ہیں اور ایک قائد دوسرے قائد کی قیادت کے خلاف ہے — یہی عجب حال ہے۔
قائدین کی اکثر تقاریر چند الفاظ میں سمٹ سکتی ہیں کہ قائدِ اعظمؒ کی منشا اور اقبالؒ کی رُوح کے مطابق ملک و ملّت کی تعمیر کریں گے —غریب امیر کی تقسیم ختم ہو جائے گی اور سب لوگ چَین سے زندگی بسر کریں گے، ملک کا دفاع مضبوط ہو جائے گا—اور —اور کیا؟ انتخاب کراؤ —ووٹ دو —اور یہ کام جلدی ہونا چاہیے، ورنہ—ورنہ کیا—؟
آج کل ہم طلسماتِ رہبری کے دَور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف اِسلام نافذ ہو رہا ہے، دوسری طرف کچھ اور نافذ ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں—کہیں مساوات کے چرچے ہیں، کہیں نظامِ مصطفیٰؐ اور مقامِ مصطفیٰؐ کا ذکر ہو رہا ہے، کہیں انتخابات کا تقاضا ہو رہا ہے، کہیں احتسابات کے قصے ہیں۔ ایک شریف غیر سیاسی شہری کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اب کیا ہو گا — خطرات کے بڑھنے کا ذکر کرنے والے،ایک سیاسی نصب العین کے تحت سرگرمِ عمل ہیں— خطرات سے یکسر غافل کر دینے والے اپنی سیاسی ضروریات رکھتے ہیں— اسلام سے محبّت بیان کرنے والے اسلام کے نفاذ کے ساتھ اپنا نفاذ بھی مشروط رکھتے ہیں۔ نظامِ مصطفیٰﷺکے نام پر اپنے عزائم پورا کرنا چاہتے ہیں۔ قوم قائدین کی کثرت سے
پریشان ہے۔
یہ پریشانی دراصل ایمان کی زندگی کا ثبوت ہے۔ اسلام میں قیادت کا تصور،دنیائے سیاست کی قیادت کے تصور سے الگ ہے، مختلف ہے، نرالا ہے۔اسلام صرف پیغمبرِ اسلامؐ کی قیادت میں زندگی بسر کرنے کا نام ہے۔آپؐ کی قیادت کے علاوہ کسی قیادت کی اطاعت واجب ہی نہیں۔مومن اللہ اور اللہ کے حبیبؐ کے احکام کا پابند ہے۔