بات کہنے کی نہیں لیکن پھر بھی— یہ حقیقت ہے کہ ایک سادہ لوح پاکستانی کو حضوراکرمؐ کے علاوہ کسی اور قائد کا ،خواہ وہ قائد ِ اعظمؒ ہی کیوں نہ ہوں،پیغام سنا دیا جائے تووہ بیچارہ کچھ سمجھ نہیں سکتا کہ اسے کس کا حکم بجا لانا ہے۔

ایک زندگی میں ہم کس کس کی لاج نبھائیں— حکومت کا حکم ماننا کہ ہماری حکومت ہے اور اب تو منتخب ہے بلکہ نَو منتخب ہے—حکومت کا حکم تو ماننا ہی پڑتا ہے مگر بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت جلسے کیوں کرتی ہے۔ عوام کے کتنے ہی کام ہیں جو حکومت کے ذمے ہیں،انہیں ہونا چاہیے —بڑے شہروں میں ٹریفک کے مسائل ہیں —سڑکوں اور گلیوں کی حالت ہے، بجلی اور گیس کے مسائل ہیں، تعلیم کے بڑے ہی مسائل ہیں، نوکری کے حصول کی دشواریوں کے مسائل ہیں —حکومت اُن کو حل کرے اور اِس کے علاوہ قوم کو ایک واضح واحد مقصد ِ حیات عطا کرے۔

اگر اسلام نافذ ہی کرنا ہے تو اللہ کی خوشنودی کے لیے کر ڈالو—لوگوں کی خوشنودی کی ضرورت ہی کیا ہے —شاید اسلام کے نفاذ کا مرحلہ مشکل ہے —اگر مسلمانوں پراسلام کا نفاذ مشکل ہے تو— یا وہ مسلمان مسلمان نہیں،یا وہ اسلام اسلام نہیں،یا وہ قوتِ نافذہ، قوتِ نافذہ نہیں!

 بہر حال اسلام میں قیادت کا تصور یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسولِ مقبولؐ کی اطاعت کرو اور اُولی الاَمر کی اطاعت کرو— اُولی الاَمر کی بحث نہیں —   یہ بحث واقعۂ کربلا سے ختم ہو گئی—  اُولی الامر یزید نہیں تھا، امامِ عالی مقامؑ تھے —اگر حاکم ِ وقت کے اَوصاف اسلام کی منشا کے علاوہ ہوں تو اُسے اُولی الامرنہ کہو—اگر وہ اسلام میں فرماں بردار ہے تو اُس کے اُولی الامر ہونے پر غور کر لینا نا مناسب تو نہیں —بہر حال یہ فیصلے علماء صاحبان کے ہیں۔

 ہم پرانے قائدین کے دن مناتے ہیں۔ صرف ایّام منانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہم خود کوئی قابل ِ ذکر واقعہ پیدا نہیں کر سکے — چھ ستمبر کی یاد اور پھر ملک کے دو لخت ہونے کی یاد،بیک وقت کیسے یاد رہے۔

ہم کچھ بھول سے گئے ہیں—ہمیں صرف قائد بننے کا شوق ہے—قائد وہ ہے جو پچھلی قیادتوں سے آزاد کر دے — اور مسلمان ماضی سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یہی اس کی خوبی ہے اور یہی اس کی خامی—خوبی اس لیے کہ مذہب ہمیشہ ماضی سے وابستہ رہتا ہے، خامی اس لیے کہ مسلمان کسی نئے تصور کو ماننے کے لیے قطعاًتیار نہیں۔ روس افغانستان کی مدد کرنے کے لیے نئے تصورِ حیات سے حاضر ہے اور مسلمان مجاہد مصروفِ جہاد ہے— امریکہ اپنے لامحدود خزانوں کے باوجود امام خمینی اور معمر قذافی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا— مسلمان کے لیے کسی قیادت کا جادو بے اثر ہے۔ اس کے لیے صرف خداکا رسولؐ بس کافی ہے— قیادت کی اطاعت اگر اسلام کے علاوہ ہو تو شرک ہے— اگر اللہ کے علاوہ معبود بنانا شرک ہے تو اسلام کے علاوہ کسی اور نظریے کی اشاعت اور اطاعت بھی شرک ہے۔ قائدین کی بہتات میں ابھی تک قائد نظر نہیں آتا—قائد وہ جس کی اطاعت ہمارا دین ہو — جس کے لیے جان نثار کرنا شہادت ہو— !

اسلام میں قیادت تقویٰ سے مشروط ہے۔ صاحبِ تقویٰ — اس زندگی کو آنے والی زندگی کی تیاری سمجھتا ہے — وہ اللہ کو رازق سمجھتا ہے— قرآن کے احکام کے تابع رہتا ہے — اور حضور اکرمؐ کی قیادت ِعظمیٰ کو تا قیامت قائم و دائم مانتا ہے۔

آج ملّت کو قائدین کی بظاہر کثرت کے باوجود کسی مردِ حق آگاہ، کسی غلامِ غلامانِ مصطفیٰؐ کی قیادت کا انتظار ہے۔ رہبر وہ کہ دیدہ وَر بھی ہو — رازِ پنہاں سے با خبر بھی ہو!!

Pages: 1 2 3