کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ اِس دُنیا میں نہ کوئی انعام ہے نہ سزا،یہاں صرف وجوہات ہیں اور نتائج۔ اِنسان کا ہر عمل یا تو کسی سبب کا نتیجہ ہے یا کسی نتیجے کے لیے نیا سبب ہے۔ اَسباب و نتائج کایہ سلسلہ زندگی کا مقدّر بن کے رہ گیا ہے۔ اِنسان جتنا عمل کرے گا،اُتنا ہی حاصل کرے گا۔محنت کرنے والا کامیاب ہو گا۔ تلاش کرنے والا حاصل کرے گا۔ مانگنے والے کو دیا جائے گا۔ کھٹکھٹانے والے کے لیے دروازہ کھولا جائے گا۔ بس عمل کرتے جاؤ، نتیجہ حاصل کرتے جاؤ۔ بُرے اعمال کو بُرا نتیجہ ملے گا، اچھے اعمال کو اچھا!!
زِندگی کا یہ تصوّر اپنی جگہ درست،لیکن زِندگی اپنے دامن میں اسباب و نتائج کے رِشتوں کے علاوہ بھی بہت کچھ رکھتی ہے۔ زندگی میں بے سبب نتائج اور بے نتیجہ اسباب کی اتنی کثرت ہے کہ اسباب و نتائج کا سلسلہ قائم رہنا مشکل ہے۔ یہ تو روز مرّہ کا مشاہدہ ہے کہ یکساں محنتیں یکساں نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ ایک مارکیٹ میں دکان دار صبح سے شام تک یکساں محنت کرتے ہیں اور شام کونتیجہ یکساں نہیں ہوتا،ایک کو نقصان اور دوسرے کو نفع۔ اپنے گھر کو پُرسکون بنانے کے لیے سب کوشش کرتے ہیں،لیکن سارے گھر پُر سکون نہیں ہوتے۔ محنت ہوتی ہے ،لیکن سکون نہیں ملتا۔
سکون یا اطمینان محنت کا نتیجہ نہیں،یہ نصیب کی عطا ہے۔ اگر اِنسان کی زِندگی میں نصیب،مقدّر یا منشائے الٰہی کا دخل نہ ہوتا تو اسباب و نتائج کا رشتہ سائنس کے اصول کی طرح ہمیشہ قائم رہتا،لیکن ایسا نہیں۔ اِس لیے کہ اِنسان کے عمل میں فطرت کا دخل ہے، گردشِ روزگار کا دخل ہے، حالاتِ زمانہ کا دخل ہے۔
کوششیں اپنی ذات تک تو نتیجہ دے سکتی ہیں، لیکن جب اِنسان دُوسرے اِنسانوں سے متعلق ہوتا ہے تو کوشش کے باوجود متوقع نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ اِنسان اپنے راستے پر صحیح سفر کر رہا ہو،تو بھی اُسے کسی اور کی غلط رَوی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ حادثہ،سبب کو نتیجے سے محروم کرنے والے واقعہ کا نام ہے،اور زِندگی حادثات کی زَد میں رہتی ہے۔ یہ چراغ ہمیشہ نامعلوم آندھیوں کی زد میں رہتا ہے۔اِسی طرح اگرنصیب ساتھ دے اور کوئی شعیبؑ میسّر آئے تو شبانی کو کلیمی بنا دیاجاتا ہے۔ اِس میں محنت کا اِستحقاق نہیں۔ یہ اَزلی نصیب ہے۔ یہ قدرت کے اپنے جلوے ہیں۔ فطرت کی اپنی عطا ہے۔ مالک کی اپنی منشا ہے۔ ہر محنت کرنے والا با مراد نہیں ہو سکتا۔ دُنیا میں بے شمار محنتیں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔ بے شمار مسافر منزلوں سے محروم رہے۔ بے حساب اَسباب اپنے نتائج نہ دیکھ سکے۔ کم و بیش ہر اِنسان زندہ رہنے کے لیے کوشش کرتا ہے اور زندہ رہنے کی کوشش ہی نے اِنسان کو موت تک لانا ہے۔ یہ ایسا نتیجہ ہے جو اپنے سبب کے بالکل برعکس ہے۔ زندگی پیدا کرنے والے کا یہ اِرشاد ہے کہ وہ جسے چاہے عزّت دے، جسے چاہے ذِلّت دے۔ وہ جسے چاہے ملک عطا کرے اور جسے چاہے معزول کر دے۔ وہ جسے چاہے بے حساب رزق دے، جسے چاہے اُس کے گناہ معاف فرما دے اور اُس کی سابقہ برائیوں کو اچھائیوں میں بدل دے۔ جسے چاہے،جب چاہے پیدا فرما دے اور جب چاہےاُسے واپس بلا لے۔
خالق کا عمل اِنسانی زِندگی میں شامل رہتا ہے اور خالق کا عمل کسی سبب کامحتاج نہیں۔ وہ خود مُسبّب ہے اور قادرِمطلق ہے۔ اِسی لیے اِنسانی زِندگی اسباب و نتائج کے فارمولے میں قائم نہیں رہتی۔ دو کسان اپنے اپنے کھیت میں ہل چلاتے ہیں۔ بیج بوتے ہیں۔ بارش کا انتظار کرتے ہیں۔ بادل برستے ہیں۔ ایک کھیت سیراب ہو جاتا ہے اور دوسرا خشک رہتا ہے۔ یہ عمل ہر سطح پر ہے۔