زندگی میں ایسے واقعات بھی دیکھے گئے ہیں کہ ایک سبب کبھی ایک نتیجہ پیدا کرتا ہے اور کبھی دوسرا نتیجہ —  پہلے سے بالکل مختلف اور برعکس ! زِندگی کو سائنس بنانے والے، زِندگی کو فارمولا بنانے والے، زِندگی کو ریاضی کے اصول بنانے والے لوگ زِندگی کی نغمگی، زِندگی کے حُسن، زندگی کے لطف اور زِندگی کے باطن کی جلوہ گری سے اکثر محروم رہتے ہیں۔

                زِندگی صرف اصول ہی نہیں،حُسن بھی ہے،محبّت بھی ہے،جلوہ بھی ہے۔ ہمارے اعمال کیا اور ہمارے نتیجے کیا! اُس کا فضل نہ ہو تو انسان اپنے عمل کے زعم ہی میں  تباہ ہو جائے۔

 کیا گمراہ ہونے والا راستہ طے نہیں کرتا؟ کیا گنہگار محنت نہیں کرتا ؟ کیا غلطی عمل نہیں ہے؟ کیا ملاوٹ کرنے والا محنت نہیں کرتا؟ کیا ساری سیاسی جماعتیں محنت نہیں کرتیں؟  کیا کچھ محنتیں رائیگاں نہیں جاتیں؟ کیا ہر سبب نتیجہ دے سکتا ہے؟ کیا ہر بیج اُگتا ہے؟ کیا ہر عالم دانا ہوتا ہے؟ کیا ہر سفر آسودۂ منزل ہوتا ہے؟ کیا مخلص دوستوں کا میسّرآنا کسی سبب کا نتیجہ ہے؟ کیا حالاتِ زمانہ کا سازگار ہونا ہمارے عمل کا نتیجہ ہے؟ کیا خوبصورت چہرہ اِنسان کا اپنا عمل ہے؟ کیا مکّھّی نے محنت کر کے شہد بنانے کا فارمولا حاصل کیا ہے؟ کیا سیّارے اور ستارے سفر کرتے کرتے تھک تو نہیں گئے؟ کیا چاند اور سورج کسی اور سبب کے نتائج ہیں یا کسی اور نتیجے کے اسباب؟ کیا بنانے والے نے زندگی میں دخل دینا چھوڑ دیا ہے؟ کیا علاج نے بیماری کو مسخّر کر لیا ہے؟ کیا دَوا سائنس بن گئی ہے؟ کیا دُعا کی ضرورت ختم ہو گئی ہے؟ کیا اِنسان بھول گیا ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے اُس کا ذکر تک نہیں تھااور آج سے کچھ عرصہ بعد پھر اُس کا ذکر تک نہ ہو گا؟ کیا اِنسان سبب اور نتیجے کے حوالے سے فطرت اور فاطر سے باغی تو نہیں ہو رہا؟ کیا غرورِ نفس اِنسان کو اُس مقام تک لے آیا ہے جہاں وہ اپنے بازوؤں کو قادر سمجھ رہا ہو؟ اپنی قوت کو اپنا مقدّر سمجھ رہا ہو؟ کیا وہ جانتا نہیں کہ پسند کی جانے والی ہر چیز اُس کے لیے مفید نہیں اور ناپسند ہونے والی ہر چیز اُس کے لیے مضر نہیں؟کیااِنسان کویادنہیں کہ فرعون کے تمام”اسباب“ اور  اُس کی تمام تر کوشش،اُس کے لیے وہ نتیجہ مرتب نہ کر سکی جس کی اُسے ضرورت تھی؟

                        یہی عجیب بات ہے کہ سبب فرعون ہو تو نتیجہ موسیٰ  ؑ  نکلتا ہے،اور یہی بات اہلِ ظاہر کی سمجھ میں نہیں آتی۔ جہاں سبب اور نتیجہ کی سائنس ختم ہوتی ہے،وہاں سے رضا اور نصیب کی حد شروع ہوتی ہے  —   اور  رضا،  رضا ہے،چاہے تو محنت کو مراد دے اور چاہے تو محنت کے بغیر بامراد    کر دے۔

                بے عقیدہ اِنسان صرف سبب کو مانتا ہے اور صاحبِ عقیدہ اِنسان مسبّب پر ایمان رکھتا ہے۔ بے عقیدہ اِنسان عوام سے قوّت مانگتا ہے۔ صاحبِ ایمان جانتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ اور قوّت کا مرکزاللہ کے علاوہ کوئی نہیں۔ اسباب و نتائج کا کھیل رضا اور قضا کی زد میں رہتا ہے۔ اپنے اعمال کو دُعا کے سہارے سے محروم نہ ہونے دیا جائے۔ دریا عبور کرنے کے لیے کشتی ضرور سبب ہے،لیکن گرداب سے نکلنے کے لیے دُعا کا سفینہ چاہیے۔

Pages: 1 2