پچھلا مضمون ’’انسان اور انسان“ جب اخبار میں چھپا تو کافی دوستوں کو خوشی بھی ہوئی اور پریشانی بھی، اور شدّت کے ساتھ ایک قاری نے تحریر کیا :’’آپ کا مضمون پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ بھی ہماری طرح انسان دوست محسوس ہوتے ہیں۔ اس زندگی کا مقصد اخلاقیات اور انسان دوستی ہی تو ہے۔انسان، انسان کے کام آئے تو انسان ہے، ورنہ وہ کیا انسان! دنیا کے مذاہب میں صرف انسانوں کی خدمت اور اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے اور یہ کہ نظامِ عبادات انسان کو خدمت ِ انسان پر مائل کرنے کے لیے ٹریننگ کا ایک نظام ہے اور بس“۔
وہ آگے چل کر فرمانے لگے : ’’ہم سب لوگ مل کر ’’ہیومنزم“ کی تحریک چلائیں اور قوم کو مُلّا کے دِین کی اَذیت سے بچائیں اور اس کام کے لیے آپ ہی موزوں شخص نظر آتے ہیں، مثلاً آپ کے مضمون کا یہ فقرہ کہ جو انسان رب العالمینؐ ہے،وہی انسان رحمت للعالمینؐ ہے“۔ اِن صاحب کے خیال میں یہی تھا کہ انسان کا رب تو انسان ہی ہے اور وہ اس بات کو بھی مانتے تھے کہ انسان میں اشرف انسان رحمت للعالمینؐ ہیں۔
اپنے عزیز کی یہ تحریر پڑھ کر مجھے تعجّب بھی ہوا اور افسوس بھی۔ تعجّب اس بات کا کہ یہ بات تو میں نے لکھی ہی نہیں، انہوں نے کہاں سے پڑھ لی اور افسوس اس بات کا کہ میرے عقیدے کے بارے میں میرے عقیدے کے باوجود لوگوں کو کیا بد عقیدتی ہے۔ میں نے اخبار دوبارہ پڑھا کہ یہ کیسے ہو گیا۔ وہاں اتفاق سے کمپیوٹر کی تیز رفتاری کے باعث ایک لفظ رہ گیا اور اس سے یہ سارا ابہام پیدا ہوا۔ وہ فقرہ دراصل یوں تھا:’’جو انسان محبوبِ ربّ العالمینؐ ہے، وہی انسان رحمت للعالمینؐ ہے“۔ یعنی جو انسان سب کائنات کے لیے مجسّم رحمت ہے، وہی انسان تو محبوبِ رب العالمینؐ ہے— یعنی ربّ العالمین کو محبوب ہی وہی ذات ہے جو انسانوں کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ انسان کو چھوڑ کر خالی رب کی عبادت کرنے والے عام طور پر کہیں نہ کہیں کھو جاتے ہیں۔ اس میں ایک وضاحت ضرور درکار ہے کہ انسان کی خدمت اور خالی انسان کی خدمت کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔
اخلاقیات کی تعریف کرنا آسان نہیں۔ کسی ایک دَور کا قانون ِاخلاقیات کسی دوسرے دَور میں بد اخلاقی ہو سکتا ہے۔ کسی خاص جغرافیائی حالات کا ضابطۂ اخلاق کسی مختلف جغرافیائی حالات کے ممالک میں کچھ اور صورت اختیار کر جاتا ہے۔ بہرحال اخلاقیات کے بالعموم قواعد کچھ یوں سے ہیں کہ— لوگوں کی خدمت کرنا— بھوکے کو کھانا کھلانا— کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا— کسی انسان کو دُکھ یا نقصان نہ پہنچانا— دنیا میں فتنہ و فساد نہ پھیلانا— ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا— زمین پر اکڑ اکڑ کر نہ چلنا— علم کی قدر کرنا— ہوس پرستی اور زرپرستی سے اجتناب کرنا— گفتگو میں نرمی اختیار کرنا— کسی انسان سے ایسا سلوک نہ کرنا جو ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ساتھ ہو۔ اخلاق کا سارا سفر مختصر طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ بے ضرر ہونے سے شروع ہوتا ہے اور منفعت بخش ہونے پر ختم ہوتا ہے۔ وہ جذبات اور وہ کوششیں جو انسان کے مجموعی ارتقاء کے لیے کی جائیں، اخلاقیات کا حصہ ہیں۔
مہذّب قومیں بااخلاق ہوتی ہیں۔ مہذب قومیں محنتی ہوتی ہیں۔ اپنے حق کے مطابق اپنا معاوضہ حاصل کرتی ہیں اور دوسرے کے حق کے مطابق اُن کی خدمت کرتی ہیں۔ ہر مذہب نے اس مضمون پر وضاحتیں کی ہیں۔دنیا میں آنے والے مصلحین نے انسان کی خدمت کے مضمون کو واضح کیا ہے۔ اِس حقیقت کو آشکار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ آج رنگ و نسل،فرقہ و قبیلہ، عقیدتوں اور عقیدوں میں بٹے ہوئے انسانوں کو سکھایا جائے کہ وہ ایک نفس سے پیدا ہوئے ہیں۔ کثرتِ انسان وحدتِ آدم پر منتج ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو معلّم اور مصلح کہا جاتا رہا ہے۔