دنیا میں جتنے بھی مصلحین آئے ہیں، اُن میں سب سے بڑا، معتبر اور معزز نام حضورِ اکرمؐ کا ہے۔ آپؐ پوری کائنات کے انسانوں کے لیے معلّمِ اخلاق ہیں۔ ایک طرف تو آپؐ خدا کے انتہائی قریب ہیں اور ایک طرف آپؐ انسانوں کے بہت نزدیک۔ بھوکے کو کھانا کھلایا جاتا ہے اِس بات سے قطعِ نظر کہ وہ یہودی ہے یا کون ہے۔ آپؐ کی رحم دلی کا کیا عالَم بیان کیا جا سکتا ہے! آپؐ نے کسی کو زندگی بھر اَذیّت نہیں دی،کسی انسان سے بدلہ نہیں لیا۔ فتح ِمکہ کے وقت آپؐ نے پوچھا کہ لوگو!تمہیں معلوم ہے کہ میں آج تمہارے کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں،تم سے کیا بدلہ لینے والا ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ آج میں تمہیں وہ بات کہنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے میرے بھائی یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی:” آج کے دن تمہارے لیے کوئی سزا نہیں“۔ آپؐ کے مثالی اخلاق اور رحم دلی کی کیا بات کی جا سکتی ہے!
آپؐ ایک بار کسی غزوہ سے اپنے رفقاء کے ساتھ واپس تشریف لا رہے تھے کہ آپؐ نے اپنے راستے پر دُور سے دیکھا کہ ایک کُتیا اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی ہے۔ آپؐ نے اپنے ساتھیوں کو حکم فرمایا کہ سفر روک دیا جائے اور راستہ بدل دیا جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کُتیا کے عمل میں رکاوٹ آئے اور ڈر کے مارے وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دے۔ کُتیا کے بچوں کے ساتھ یہ سلوک عام تو کیا،خاص انسانوں کے بس کی بات بھی نہیں، بلکہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ آپؐ ایسی ذات ہیں، اِس شان کی رسالت رکھتے ہیں کہ آپؐ ہی کا حق ہے کہ آپؐ حکم فرمائیں اور دُنیا کے اخلاقیات کے ماہروں پر حق ہے کہ وہ آپؐ کی اطاعت کریں۔
مزید وضاحت یہ ہے کہ انسان کو پتا ہی نہیں چل سکتا کہ اُس کے لیے کیا اچھائی ہے اور کیا برائی ہے۔ بے شمار لوگوں نے دنیا میں اچھائی سمجھ کر برائی کی ہے۔ یعنی ایک ایسا کام جو بظاہر اچھا ہو اور جس کا نتیجہ بُرا ہو،سرزد ہوتا رہا ہے۔ جس کی مثال جابر حکمرانوں کے دَور سے دی جا سکتی ہے۔ فرعون کا یہ حکم کہ لوگو! تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم میرے سامنے جھکو اور میرے لیے یہی بہتر ہے کہ میں تم پر حکومت کروں۔ کچھ لوگ تو کہتے رہے ہیں کہ سب انسان برابر ہیں اور جب انہوں نے اپنی ذات میں اِس کا ثبوت نہیں دیا تو پھر یہ کہا جاتا رہا کہ سب برابر تو ہیں لیکن کچھ لوگ زیادہ برابر— یعنی حکومت کرنے والے کا حق اور ہے اور محکوم ہونے والے کا حق اور — اور اسی طرح اخلاقیات کے نام پر مصیبتیں نازل ہوتی رہی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ انسان اپنے لیے پسند کرے وہ چیز جو اُس کے لیے نقصان دہ ہو، اور ناپسند کرے وہ چیز جو اُس کے لیے فائدہ مند ہو۔
اِس کی عام مثال اُن بچوں کی زندگی سے ملتی ہے جو وقت ضائع کرنے کو پسند کرتے ہیں، حالانکہ اس کا نتیجہ اُن کے لیے مصیبت ہے۔ انسان اپنے لیے آرام پسند کرتا ہے اور آرام طلبی کے ذریعے وہ مصیبتوں میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اِس لیے بہتر ہے کہ اپنی مرضی کو تابعِ فرمانِ الٰہی کر دیا جائے۔ اگر الٰہیات کو اخلاقیات سے نکال دیا جائے تو تنہائی کے جرائم، جرائم ہی نہیں رہیں گے۔ مجرم وہ ہوگا جو قانون کی زد میں آئے ،اور جو قانون کی نظر سے بچ جائے وہ مجرم ہی نہیں کہلائے گا، لیکن الٰہیات کی شمولیت کے بعد گنہگار، گنہگار ہے، چاہے لوگوں میں نیکو کار ہی کیوں نہ مشہور ہو۔ ایسا انسان بد ہے، چاہے وہ ظاہر داری میں ایک بہت درویش صورت بن کر بیٹھ جائے۔
مزید وضاحت یہ ہے کہ اخلاقیات کا نظام جوابدہ ہے صرف زمانے کو،اور دین میں اخلاقیات اور اِلٰہیات کا مجموعہ انسان کو جوابدہ کرتا ہے اُس ذات کے آگے جس نے زندگی پیدا کی اور زندگی کو مدعا دیا کہ اے انسانو اور جنات کے گروہ ، میں نے تمہیں عبادت کے لیے پیدا کیا۔ اب عبادت کی تعریف یہ کی جا سکتی ہےکہ یہ وہ نظامِ عمل ہے جس سے انسان انسانوں کی فلاح بھی کر سکے اور تقربِ الٰہی بھی حاصل کر سکے۔ اِس کی اعلیٰ ترین شکل اور مکمل ترین صورت حضور اکرمؐ کی ذات گرامی ہے۔ پس اخلاقِ محمدیؐ ہی اخلاق ہے اور شریعت ِ محمدیؐ ہی ذریعہ ہے، قرب حق کا!
اِسلام میں رہبانیت منع ہے۔ خدا کوچھوڑ کر بندوں میں مصروف رہنا بھی رہبانیت کی ایک شکل ہے اوراِنسانوں کو چھوڑ کر عبادت میں مصروف رہنا بھی ایک طرح کی رہبانیت ہے۔ برائی اچھائی کے تصور کے ساتھ اخلاقیات میں الٰہیات کی شمولیت سے جرم اور گناہ کا فرق معلوم ہو سکتا ہے۔ جرم حکومت کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور گناہ الٰہیات کے حکم کے خلاف عمل کا نام ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک چیز گناہ ہو اور وہ جرم نہ کہلائی جائے۔ یہیں سے اِس دھوکے کا امکان ہے جو ’’ہیومنزم“ کے نام پر کھایا جاتا رہا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ انسان دوستی اور انسان نوازی تو کی جائے لیکن انسان پرستی نہ کی جائے۔ پرستش اللہ کی اور خدمت انسان کی — یہی ہمارا ’’ہیومنزم“ ہے۔
بس! اپنے محترم قاری سے وضاحت کے ساتھ گزارش ہے کہ ہم کسی ’’ہیومنزم“ کے نام پر کوئی تحریک نہیں چلا سکتے۔ ہم صرف ایک ہی تحریک مانتے ہیں،وہ تحریک ہے محسن ِانسانیتؐ کی عطا کی ہوئی— کہ انسانوں کو انسان کی خدمت کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف مائل کرو اور یہ کہ اللہ کو اُس کی رحمت کے ساتھ انسانوں پر مہربان ہونے کی گزارش کرتے رہو۔ ہمارے لیے اتنا عمل، اتنا علم اور اتنا ہی اخلاق کافی ہے۔