یہ عظیم و قدیم،جمیل و جسیم کائنات اِتنی پُراَسرار و پُرانوار ہے کہ اِس کا اندازہ لگانا بھی دُشوار ہے— اِس میں کیا نہیں ہے— !
یہاں وسعتیں ہیں—گردشیں ہیں— فاصلے ہیں— زمانے ہیں— بلکہ وسعت دَر وسعت، گردش دَر گردش — فاصلہ دَر فاصلہ — زمانہ دَر زمانہ — مدار دَر مدار— محور دَر محور!
اِس کائنات میں عجب کھیل ہے—زمانے زمانوں کی تلاش میں ہیں—گردشیں گردشوں کے تعاقب میں ہیں — وقت وقت کو کھا رہا ہے — زندگی موت کے حصار میں ہے اور موت زندگی کی زد میں ہے۔
کائنات بنانے والے نے اِسے بہت ہی خوبصورت اور انوکھا شاہکار بنایا ہے۔ کہیں اِتنے گرم ستارے ہیں کہ ہمارے ہاں کی آگ بھی پناہ مانگے—کہیں اتنے یخ سیارے ہیں کہ ہمارے ہاں کی برف کو بھی پسینہ آجائے—!
کائنات تو خیر ہے ہی ایک عجوبہ—لیکن یہ زمین اپنے آپ میں ایک مکمل کائنات ہے —مختصر اور محدود زمین وسیع اور لا محدود اِمکانات سے مالا مال ہے۔
زمین کا حُسن ہو کہ کائنات کا حُسن— اِسے جاننے اور دیکھنے کے لیے جس مخلوق کو مقرر فرمایا گیا،وہ ایک الگ شاہکار ہے۔
اِس تماشا گاہِ عالم میں واحد تماشائی انسان ہے— اِنسان کو ایسی صفات سے نوازا گیا کہ وہ باہر کا منظر اپنے باطن میں موجود پاتا ہے— اِنسان ہی تو اِس کائنات کے رُموز سے آشنا ہے—اگر وہ آشنا نہیں تو کون آشنا ہے؟ اسی کے لیے یہ سب جلوے ہیں — وہی اشرف المخلوقات ہے—!