آسمان کے کروڑوں ستاروں کو بیک وقت دیکھنے والا آلہ بس اِنسانی آنکھ ہے —آنکھ نہ ہو تو حُسن ِ کائنات کیا ہے — روشنی کا وجود اپنے آپ میں لاکھ موجود ہو،دیکھنے والے کے بغیر عبث سا ہو کر رہ جاتا ہے—اندھوں کے لیے سورج کا جلوہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔بے شعور کے لیے اِس کائنات کے رُموز کیا وقعت رکھتے ہیں۔ بنانے والے نے یہ عجب کھیل بنایا ہے۔
کروڑ ہا سالِ نور کے فاصلے رکھنے والی پُرشکوہ کائنات کے اَسرار و رُموز کی آگہی کا دَم بھرنے والا ایک اِتنے چھوٹے سے سیّارے پر رہتا ہے جس کے وجود کا اِس وسیع کائنات کے حوالے سے ہونا نہ ہونا برابر ہے—اس چھوٹی سی دُنیا میں،کسی چھوٹے سے ملک میں،کسی چھوٹے سے شہر میں،کسی مکان کے اندر،ایک اِنسان اپنی چھوٹی سی عقل کے ذریعے اِس عظیم وسعت کا احاطہ کرنا چاہتا ہے— یہی نہیں— وہ اِس فطرت کے فاطر کی صفات و ذات کی آگہی کے شرف سے بھی اپنے آپ کو مفتخر مانتا ہے۔
یہ سب کیسے ہے—؟ کیوں ہے؟ کیا ایسے ہے بھی سہی کہ نہیں ہے؟ اگر نہیں ہےتو یہ سب کچھ ہونے کے باوجود نہیں ہے۔ اِنسان نہیں تو یہ سب کچھ کیا ہے—؟ اگر ذاکر نہ ہو تو مذکور کون ہے؟ مذکور کو ذاکر درکار تھا —اُس نے ذِکر پیدا کیا—ذِکر ہی کے ذریعہ سے مذکور و ذاکر متعلق ہیں—!
وسعتیں حُسنِ خیال میں سمٹ کے آجاتی ہیں—کون و مکاں کے جلوے اِنسان کے دِل میں موجود ہوتے ہیں—! زمین و آسماں کے رِشتے اِنسان ہی کے دَم سے ہیں— ساری کائنات سمٹ کے اِنسان کے دِل میں آجاتی ہے— ساجد کی پیشانی میں مسجود کے جلوے ہیں—اور مسجود خالق بھی ہے— اور خالق کائنات کے جلووں کا مالک ہے — وہ جلووں کا مالک ہے—ہم جلووں کے مستقر ہیں—ہم اُس کے جمال کا آئینہ ہیں— وہ اپنی ذات میں تنہا رہ سکتا ہے—لیکن اُس نے چاہا کہ وہ جانا جائے،پہچانا جائے—بس اُس نے مخلوق بنا دی — یہ کائنات،عالم ِ موجودات— اور پھر اِس میں اشرف المخلوقات ،اِنسان—!
یہی اِنسان محدود و فانی ہونے کے باوجود لا محدود و باقی کو جاننے والا اور ماننے والا ہے —اُس کے جلوے اِس میں ہیں— اُس کا پَرتَو اِس میں ہے — وہ مخفی ہے تو یہ آشکار ہے— وہ عظیم فنکار ہے تو یہ اُس کا عظیم شاہکار ہے— اُس کو کیسے جان سکتا ہے —بس یہی وہ راز ہے جس کے جاننے سے سب کچھ جان لیا جا سکتا ہے۔