لیکن کبھی کبھی جب ضرورت ساتھ چھوڑ دے اور عمل کی قدرت نہ رہے تو اِس بات پر غور کرنا کہ یہ سب کس لیے!  اگر یہ سب کچھ اِس لیے اکٹھا کیا ہے کہ اِسے چھوڑ دیا جائے تو اکٹھا کرنے کا فائدہ؟  — اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اِسے نہ چھوڑا جائے۔  یہ عجیب بات ہے کہ محنت کی عادت قائم رہے بھی تو اِنسان کی طاقت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اُس کا سفر جاری رہتا ہے لیکن سفر کی رفتار مدہم ہو جاتی ہے۔ آنکھیں محفوظ رہتی ہیں لیکن بینائی غیر محفوظ ہے۔ اُس کا آنگن پھولوں سے بھرا ہوتا ہے لیکن وہ رنگوں اور خوشبوؤں کے طلسمات سے لطف اندوز ہونا بھول چکا ہوتا ہے۔  اُس کے دستر خوان کشادہ ہوتے جاتے ہیں لیکن اُس کا ذائقہ ختم ہو چکا ہوتاہے۔ وہ زندگی بھر کتابیں اکٹھی کرتا ہے کہ کبھی فرصت ملی تو پڑھیں گے لیکن جب لائبریری مکمل ہوتی ہے تو زندگی بھی مکمل ہو جاتی ہے اور اِس طرح کتابوں کا مالک ہونے کے باوجود کتابوں سے ناآشنا ہی رہتا ہے۔

ہمدم! زندگی بڑی طویل ہے لیکن زندگی بڑی مختصر بھی ہے  —    نہ گزرے تو ایک لمحہ نہیں گزر سکتا،  صدیوں تک ایک لمحہ نہیں گزرتا،  اور اگر گزرنے لگے تو صدیاں ایک لمحے میں سمٹ کر گزر جاتی ہیں۔ اِسی طرح جس طرح ہجر کا لمحہ اور وصال کی صدیاں! یہ زندگی عجب ہے  —  نہ سوچو تو کٹتی ہی چلی جاتی ہے اور اگر سوچنے لگو تو وقت ٹھہر جاتا ہے۔  گردشیں رُک جاتی ہیں۔  ماضی، حال اور مستقبل صاحبِ فکر کے سامنے ایک لمحہ میں سمٹ جاتے ہیں۔  ایسا لمحہ جس میں وہ پُرانے کا غذ،  پُرانے خطوط،  جن میں پُرانے چہرے اور پُرانی آنکھیں لکھی ہوتی ہیں،  اچانک ایک نیا لباس پہن کر نئے معنی سے نئے سفر پر ہم سفری کی تمنا کرتے ہیں۔  وہ جو نہیں ہوتے،  ہوتے ہیں اور جو ہوتے ہیں،  نہیں ہوتے  — اور اِس طرح ہونا اور نہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔  ہمدم! یہ سب سوچ کے طلسمات ہیں،  فکر کے کرشمے ہیں —  تمہاری دُنیا سے دُور،  تمہارے جہاں سے الگ،  تمہارے زمانے میں،  لیکن تمہارے زمانے سے باہر۔  تمہارے شب و روز میں حاصل اور محرومی ہے لیکن صاحبانِ فکر کے ہاں نہ سُود ہے، نہ زیاں ہے۔  وہاں مسلسل خلش ہے، مستقل تپش ہے،  مدام آتش!

اِس لیے تم اپنے سفر پر گامزن رہو۔ تم اپنے شب و روز کو پریشان نہ کرو۔  تم کماتے جاؤ اور کھاتے جاؤ،  کھاتے جاؤ اور کماتے جاؤ،  ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ تمہارے  آنگن میں پھول کھلیں،  تمہارے مکانوں میں چراغاں رہے،  تمہارے شہروں میں میلے قائم رہیں اور تمہارا دِل —  دِل کی بات،  بس دِل ہی میں رہنے دو۔

Pages: 1 2 3