جوانی اور بڑھاپا عمر کے کسی حصّے کا نام نہیں، یہ صرف اندازِ فکر کے نام ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ کوئی شخص تیس سال میں بوڑھا ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ساٹھ سال میں جوان ہو۔

جب تک اِنسان آنے والے زمانوں کے لیے پلاننگ کرتا ہے، جوان رہتا ہے اور جب جانے والے زمانوں کی یاد شروع ہو جاتی ہے،  آغازِ پِیری ہوتا ہے۔ جب زندگی کا تمام تر اثاثہ صرف ماضی کی یاد ہو، حسرتوں کا شمار ہو، ندامتوں کی باز گشت ہو، ہاتھ سے نکلے ہوئے مواقع کا افسوس ہو، غلط فیصلوں کا احساس ہو،  تو سمجھ لیجیے جوانی ختم ہو گئی اور بڑھاپا شروع ہو گیا۔

بوڑھے آدمی کا کوئی مستقبل نہیں۔ اُس کی زندگی میں کسی نئے یا خوشگوار واقعہ کا انتظار ختم ہو چکا ہوتا ہے۔  وہ دیکھتا ہے،  اُس کے ساتھی ایک ایک کر کے رُخصت ہو رہے ہیں۔  وہ دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُس کا وقت بھی کسی وقت آ سکتا ہے۔ بوڑھا آدمی جانتا ہے کہ ہر نیا غم ہر پرانے غم کی طرح رخصت ہو جائے گا۔ بوڑھے اِنسان کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ نہ کوئی خوشی مستقل ہے، نہ غم۔ زندگی خود مستقل نہیں!!

بڑھاپے میں اِنسان کے احساسات، اُس کے جذبات،  صدمات اور واقعات منجمد سے ہو کر رہ جاتے ہیں۔  وہ روتا ہے تو اُس کے آنسوؤں میں گرمی نہیں ہوتی۔ وہ ہنستا ہے تو اُس کی ہنسی میں بے ساختہ پن اور شگفتگی نہیں ہوتی۔

بوڑھے آدمی کا مزاج — اُس کا کیا مزاج — غیر یقینی اور غیر مستحکم  —  وہ خود نہیں سمجھ سکتا کہ اُس کو کیا ہو گیا ہے۔ بوڑھا اِنسان محفلوں میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور تنہائیوں میں اُس کی محفلیں ہوتی ہیں — یادوں کی محفلیں!عہدِ رفتہ کے مناظر اُس کی زندگی کا سرمایہ ہیں۔ گم شدہ چہرے اُس کی آنکھوں میں تیرتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے اُن کو،  جن کو وہ نہیں دیکھ سکتا — وہ سنتا ہے اُن آوازوں کو،  جو سنائی نہیں دیتیں۔ وہ گفتگو کرتا ہے اُن سے، جو سُن نہیں سکتے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6