جوانی کی خوش خوراکی اور بسیار خوری معدے کی بیماری بن کر بڑھاپے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔  جوانی اپنے حلقۂ دوستاں کو وسیع کرتی ہوئی دائرۂ دشمناں تک پہنچ کر بڑھاپے کا رُوپ دھار لیتی ہے۔  جوانی کی بغاوتیں،  ندامت کا بوجھ بن کر جوانی کو دبوچ لیتی ہیں اور اِنسان بوڑھا
ہو جاتا ہے۔

زندگی کے سمندر میں بوڑھا اِنسان یا تو لاش بن کر تیرتا ہے یا موتی بن کر ڈوب جاتا ہے۔  بڑھاپا ہی دراصل شعور کی جوانی کا دَور ہے۔ جسم اور جسم کی حرکات کم ہو کر اِنسان کو باطن کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اِنسان جانتا ہے کہ اب اُسے کسی شے اور کسی اِنسان کا انتظار نہیں ہے۔  وہ خاموشی سے اپنے باطن کی طرف رجوع کرتا ہے۔  اُس کے تجربات،  اُس کے مشاہدات،  اُس کے علم میں اضافہ کر کے اُسے نئی جہت دریافت کرنے کا موقع اور دعوت دیتے ہیں۔

بڑھاپا اندرون بینی کی طرف مائل ہوتاہے۔  وہ اپنے آپ کو دریافت کرنا چاہتا ہے۔  وہ خود ہی رُو برو ہے، خود ہی نظر ہے، خود ہی اپنا نظارہ —  بوڑھا اِنسان خود ہی آواز ہے، خود ہی گوش بَر آواز۔ بوڑھا آدمی جوانوں کے لیے دُعا گو ہوتا ہے —  ایسی دُعائیں جو اُس کو اُس کی جوانی میں کسی نے نہیں دیں — وہ جوانوں کو بلند منزلوں کی طرف دیکھنا چاہتا ہے،  ایسی بلندی جو اُس کو اپنی جوانی میں نہ ملی۔  وہ جوانوں کو اپنے بڑھاپے کے پلیٹ فارم سے دعوتِ اخلاق دیتا ہے۔ عجب بات ہے،  بوڑھا جوانوں کو بہت کچھ سنانا چاہتا ہے،  وہ سنتے نہیں — جوان بوڑھوں کو بہت کچھ سنانا چاہتے ہیں،  وہ سُنتے نہیں — کوئی کسی کی نہیں سُنتا — !

اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے کی نگاہ سے کوئی نہیں دیکھتا۔  اپنے بڑھاپے کو اپنی جوانی کی نگاہ سے کوئی نہیں دیکھتا۔ اگر جوانی میں اِنسان اپنے مستقبل کا خیال رکھے، تو بڑھاپے میں حسرتوں کا شمار بہت کم ہوتا ہے۔

جوانی مسافرت کی قائل ہے،  بڑھاپا قیام کا خو گر ہے۔  بوڑھا آدمی گھر میں ہی رہنا پسند کرتا ہے اور گھر میں باقی افراد شاید اُس کا یہ عمل پسند نہ کرتے ہوں —  !

Pages: 1 2 3 4 5 6