یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ امام حسینؓ    کیوں خوش نصیب ہیں۔  آپ پر کربلا گزری اور یہ بہت بڑی کٹھن منزل تھی۔  کیا کیا نہ ہوا۔  کون سا غم تھا، جو نہ ملاہو۔  کون سا مرحلہ تھا،  جو نہ آیاہو۔  مراحل ہی مراحل،  مشکل ہی مشکل،  خود مشکل کشا —  اور یہ ابتلا! مالک ذوالفقار کے، اور پھرجلوے گردشِ روزگار کے۔  بڑے نصیب کی باتیں ہیں۔  تقرّب کے صحیفے ہیں۔  زمین پر ہونے والا آسمانی کرشمہ —  خود تماشا و خود تماشائی! عجب صورتِ حال ہے۔ خوش نصیبی کی شرحِ دلپذیر اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔  سیّدالشہداءنے خوش نصیبی کو وہ رنگ عطا کیا کہ کہنے والے برملا کہہ اُٹھے  :

ع              حقّا کہ بنائے لاالٰہ است حسین ؑ

یہ سب حسین اوراق ہیں، خوش نصیبی کی کتابِ مقدّس کے —  یہ سب مقطعات ہیں،  خوش نصیبی کی الہامی کتاب کے —  کون جانے اور کون سمجھے! علم کے مخفی خزانوں کی کنجیاں ہیں، اِن خوش نصیبوں کے پاس !ساقی ٔ کوثر ہیں اور دریا کے کنارے پر پیاسے ہیں۔  یہ سب راز ہائے سربستہ کی کرشمہ کاریاں ہیں۔  آج کا انسان کیاجانے کہ خوش نصیبی کیا ہے۔  آج کسی کو غریبی اور پیغمبری اکٹھی مل جائے تو وہ پیغمبری سے استعفیٰ دے دے۔  اگر آج کے انسان کو دولت اورخدا میں سے ایک کو چننا پڑے تو وہ دولت قبول کر لے گا۔  دل اور شکم کا قصہ تو اقباؔل ؒ نے فرما دیا کہ:

ع              دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت

آج کا انسان صرف دولت کو خوش نصیبی سمجھتا ہے اور یہی اُس کی بد نصیبی کا ثبوت ہے۔  آج کا انسان یا مسلمان زندگی فرعون کی پسند کرتا ہے اور عاقبت موسیٰؑ کی۔  بد قسمت ہے،  آج کا انسان۔  آسائشوں کا گرفتار،  نمائشوں کا پرستار،  آرائشوں کا پجاری،  آلائشوں کی بیماری میں کراہ رہا ہے۔  اس کا دل بجھ چکا ہے لیکن اس کے مکان میں قمقمے روشن ہیں۔  وہ لذّتِ وجود کی لعنت میں گرفتار ہے۔  اسے کسی بڑے مقصد سے تعارف نہیں۔  وہ صرف سنچریاں ہی بناتا ہے اور پھر کلین بولڈ ہو کر رخصت ہو تا ہے۔

Pages: 1 2 3