دُنیا میں خوشی حاصل نہیں ہو سکتی، جب تک ہم دوسروں کو خوش نہ کریں۔ خوش کرنے والا ہی خوشی سے آشنا کرایا جاتا ہے، اور ہر خوش کرنے والا اور خوش رہنے والا تنہائیوںمیں آنسوؤں سے دل بہلاتا ہے۔

لذّتِ ستم مل جائے تو اور کرم کیا ہے!آہِ سحر گاہی انعام ہے، اُن کے لیے جوبارگاہِ صمدیت میں مقرب ہوں۔ بے قرار رُوحیں سرشار ہوتی ہیں بلکہ زمانوں کو سرشار کرتی ہیں۔  روہی میں رہنے والا فریدؒ آخرپکاراُٹھتا ہے۔ (دُنیا والو!جس کو تلاش کر رہے ہو، وہ ہمہ وقت میرے پاس ہے۔)

 خلقت کوں جیندی گول اے
ہر دَم فریدؔ دے کول اے

کسی اِنسان کے غم کا اندازہ اُس کے ظرف سے لگایا جاتا ہے۔ کم ظرف آدمی دوسروں کو خوش دیکھ کر ہی غم زدہ ہو جاتاہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ لوگ خوش رہیں۔  وہ اُن کی خوشیوں کو برباد کرنے پر تُل جاتا ہے۔  اُس کی خوشی یہ ہے کہ لوگ خوشی سے محروم ہو جائیں۔ وہ اپنے لیے جنّت کو وقف سمجھتا ہے اور دوسروں کو دوزخ سے ڈراتا ہے۔ ایک بخیل اِنسان نہ خوش رہ سکتا ہے، نہ خوش کر سکتا ہے۔ سخی سدا بہار رہتا ہے۔ سخی ضروری نہیں کہ امیر ہی ہو۔ ایک غریب آدمی بھی سخی ہوسکتا ہے، اگر وہ دوسروں کے مال کی تمنّا چھوڑ دے۔

اِسی طرح جن لوگوں کا ایمان ہے کہ اللہ کا رحم اُس کے غضب سے وسیع ہے، وہ کبھی مغموم نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ غربت کدے میں پلنے والا غم اُس کے فضل سے ایک دن چراغِ مسرت بن کر دلوں کے اندھیرے دُور کرسکتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ پیغمبر بھی تکالیف سے گزارے گئے لیکن پیغمبر کا غم اُمّت کی فلاح کے لیے ہے۔ غم سزا نہیں، غم انعام بھی ہے۔ یوسف ؑ کنویں میں گرائے گئے، اُن پر الزام لگا، انھیں قید خانے سے گزرنا پڑا لیکن اُن کے تقرّب اور اُن کے حُسن میں کمی نہ آئی۔ اُن کا بیان اَحسن القصص ہے۔ دراصل قریب کر دینے والا غم دُور کر دینے والی خوشیوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ منزل نصیب ہو جائے تو سفر کی صعوبتیں کامیابی کا حِصّہ کہلائیں گی اور اگر انجام محرومئ منزل ہے تو راستے کے جشن ناعاقبت اندیشی کے سِوا کیا ہوسکتے ہیں۔ اِنسان اگر باشعور ہو جائے تو وہ پہچان لیتا ہے کہ ایک غم اور دوسرے غم میں کوئی فرق نہیں۔ کل کے آنسو اور آج کے آنسو ایک جیسے ہیں۔  باشعور اِنسان غور کرتا ہے کہ کوئی خوشی، زندگی کے چراغ کو فنا کی آندھی سے نہیں بچا سکتی۔  زندگی کا انجام اگر موت ہی ہے تو غم کیا اور خوشی کیا!!

Pages: 1 2 3 4