عابد اور معبود کے درمیان رشتہ عبادت ہے۔معبود کے احکامات کی بجا آوری عبادت کہلاتی ہے۔  یہ احکامات اَوامرو نواہی کی شکل میں ہمیں پیغمبرؐ کی ذاتِ اَقدس اور قرآنِ حکیم کے وسیلہ سے معلوم و وصول ہوتے ہیں۔  اِن کی تعمیل بغیر عذر اور تردّد کے عبادت کی اصل ہے۔

مسلمانوں کو عبادات کے مفہوم سے کماحقہ آگاہ کرنےکے لیے حضورِ اکرمؐ  نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں عملی کردار ادا فرمایا۔  عبادت کے اِس مفہوم میں نہ اضافے کی گنجائش ہے،  نہ تخفیف کی۔  نماز فرض ہے  تو سب کے لیے، سب زمانوں میں فرض ہے،  اسی طرح باقی عبادات۔  اس میں کوئی کلام ہے  نہ کسی بحث کی ضرورت۔  احکامِ عبادت میں کوئی ابہام نہیں۔  اس میں کوئی مزید وضاحت درکار نہیں۔  معبود کے احکام جاری ہو چکے ہیں۔  اِن کی تعمیل پیغمبرؐ  کے زمانہ سے آج تک من وعن جاری ہے۔  ملّتِ اسلامیہ کی عبادت کا طریقۂ کار وہی ہے جو حضور پُر نورؐ  کے زمانۂ  مبارک میں تھا۔

معبود کا حکم ہے کہ حرام نہ کھایا جائے۔  پس حرام مال سے اجتناب عبادت ہے۔  ماں باپ کا اس حد تک ادب کیا جائے کہ اُن کے آگے ”اُف “ تک کا لفظ نہ کہا جائے۔  پس والدین کی خدمت عبادت ہے۔  غرض یہ کہ جو کچھ بھی معبود نے فرما دیا،  اُس پر یقین اورعمل عبادت ہے۔  جو کچھ کرنے کے لیے کہا گیا،  وہ کیاجائے اور جس سے بچنے کے لیے کہا گیا،  اُس سے بچا جائے،  یہی عبادت ہے۔  عبادت عقیدہ بھی ہے اور عمل بھی!

ایک بات جو اِس ضمن میں قابلِ غور ہے،  وہ یہ ہے کہ ہمارا معبود ہمارا خالق بھی ہے۔  خالق نے مخلوق کے لیے تخلیق کے حوالے سے بھی فرائض عائد فرما رکھے ہیں۔  اِن کی بجا آوری بھی عبادت ہی کہلائے گی،  مثلاً خالق نے ہمیں انسان پیدا فرمایا۔  انسانیت کے تحفظ کے لیے جو اعمال ضروری ہیں،  انھیں ادا کرنا عبادت ہے۔  اگر سانس لینا فرض ہے،  تو سانس کی حفاظت عبادت ہے۔  خالق کی عطا کی ہوئی زندگی اپنے دامن میں فرائض کا انبار لیے ہوئے ہے،  ان فرائض کو پورا کرنا ہے۔  مثلاً رزق کمانا ضروری ہے، فرض ہے، مجبوری ہے۔  پس رزق کمانے کا عمل عبادت ہے۔  رزق کمانے کے بعداس کی مناسب تقسیم عبادت ہے۔  اللہ کا حصہ اللہ کو دیا جائے،  دنیا کا حصہ دنیا کو دیا جائے،  اپنا حصہ اپنے استعمال میں لایا جائے،  یہ عبادت ہے۔  اپنے استعمال میں آنے والے رزق کو مناسب استعمال کرنا بھی عبادت ہے۔  مطلب یہ کہ زندگی کو اپنے ماحول میں پُرسکون بنانے کے ساتھ ساتھ اسے دین کے تابع رکھنا ہی عبادت ہے۔

حج،  روزہ،  زکوٰۃ وغیرہ کی عبادات سب کے لیے یکساں ہیں،  لیکن زندگی کے فرائض میں ہر انسان ہر دوسرے انسان سے مختلف ہے۔  یکساں عبادت اپنی جگہ اٹل،  لیکن غیر یکساں عبادت اپنی اہمیت کے لحاظ سے اُتنی ہی اٹل ہے اور اس کا مفہوم ہر دَور اور ہر زمانے میں ہر معاشرے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا ہے،  اس لیے زندگی کے فرائض کی بجا آوری میں اکثر وضاحتیں درکار رہتی ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ یکساں عبادت یکساں نتیجہ نہیں پیدا کرتی۔  ہر نمازی نیک نہیں ہوتا۔  ہر مسجد کا ماحول ہر دوسری مسجد کے ماحول کے مساوی نظر نہیں آتا۔  اِس لیے کہ زندگی اور زندگی کے تقاضے یکساں نہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5