نیّت بدل جائے تو نیک عمل نیک نہیں رہتا۔  انسان اندر سے منافق ہو تو اس کا کلمۂ توحید،  کلمۂ توحید نہ ہوگا،  ہر چند کہ کلمۂ توحید وہی ہے۔  قرآن بیان کرنے والے اور قرآن سننے والے اگر متقی نہ ہوں،  تو قرآن فہمی سے وہ نتائج کبھی نہیں پیدا ہوں گے جو قرآن کی منشاء ہیں۔

اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ اگر منافق حضورِ اکرمؐ  کی نبوّت کی گواہی دیں،  تو یہ بیان ہر چند کہ سچا ہےلیکن منافق جھوٹ بول رہے ہیں۔  اسلام کے دشمن اگر مسجد بنائیں تو وہ مسجدگرا  دی جائے۔  اس سے مساجد کا احترام مجروح نہیں ہوتا،  بلکہ اس کے برعکس یہ مساجد کے احترام کا ہی عمل ہے۔

اگر مساجد میں عبادت جاری ہے اور اہلِ محلہ کی معاشرتی زندگی میں اصلاح کا عمل نہیں پیدا ہوتا،  تو ایسی عبادت قابل ِ غور ہے۔  نماز کا مدعا صرف نماز ادا کرنا ہی نہیں،  بلکہ نماز کے انداز اور مفہوم کو زندگی میں رائج کرنا ہے۔  اگر زندگی سماجی قباحتوں میں بدستور گرفتار ہے اور نماز بدستور ادا کی جا رہی ہے،  تو ایسی صورت ِحال پر بڑا غور ہونا چاہیے۔ مثلاً ایک عابد ڈاکٹر مریضوں کے حق میں صحیح نہیں  تو اُس کے لیے اُس کی عبادت منفعت نہ لائے گی۔  اِسی طرح اگر ہم تمام شعبہ ہائے حیات میں زندگی کے فرائض ادا نہ کریں اور معبود کی عبادتیں جاری رکھیں تو یہ منشائے عبادت نہیں۔  منشائے عبادت یہ ہے کہ فرائض ِ حیات بھی اَدا کیے جائیں اور معبود کی عبادت بھی جاری رہے۔

اگر اَولاد کی پرورش فرض ہے،  تو اَولادکے لیے صحت مند ماحول مہیا کرنے کا عمل عبادت ہے۔  ایک دوسرے کا احترام عبادت ہے۔  خالق کے اعمال کا احترام عبادت ہے۔  خالق نے یہ کائنات تخلیق فرمائی،  انسان تخلیق فرمائے،  کافر مومن،  کالے گورے،  صحت مند بیمار،  محتاج غریب وغیرہ،  ان کا احترام تخلیق کے حوالے سے فرض ہے اور دین کے حوالے سے اِن کی اصلاح عبادت ہے۔  کافر کو دعوتِ اسلام دینا عبادت ہے۔  یہ دعوت محبّت سے دی جائے یا قوّت سے دی جائے،  مفہوم کافر کی اصلاح ہے۔  منشائے اصلاح ہی عبادت ہے۔

اللہ کے لیے دعوتِ عمل صرف اللہ ہی کے لیے ہو تو عبادت، اور اگر اس میں اَنا یا نفس شامل ہو جائے تو عبادت نہ رہے گی۔  غور طلب بات یہ ہے کہ جب عبادت وہی ہے،  معبود بھی وہی ہے،  تو نتیجہ وہی نہیں —  کیوں؟

Pages: 1 2 3 4 5