آج مسلمانانِ عالم اپنی عبادات کے باوجود اقوامِ عالم میں پسماندہ ہیں۔  کیوں؟ اگر اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہی ہے،  اور اس میں شک نہیں کہ ہے،  اور ہم مسلمان ہیں،  اسلام قبول کرنے والے،اور  ہماری زندگی ہمارے مالک سے قریب ہونے کے دعویٰ کے باوجود آسانیوں سے محروم ہے تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں بگاڑ ہے۔  پانی کہیں مر رہا ہے۔

مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، اللہ کے لیے بھی محبّت کی ایک یادگار ہے۔  یہودیوں کے قبضے میں ہے۔  ہم بے بس ہیں۔  اللہ تو بے بس نہیں۔  کچھ نہ کچھ ہے،  کہیں نہ کہیں!

خانہ کعبہ مقامِ امن ہے۔  اس میں ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مہدی ہے۔  مار دیا جاتا ہے۔  غور طلب بات یہ ہے کہ اگر اُس نے جھوٹ بولا تو خانہ کعبہ میں بولا۔  اگر وہ قتل ہوا تو خانہ کعبہ میں۔  دونوں حالتیں اسلام کے دعویداروں کے لیے قابل غور ہیں۔

ہم عبادت کرتے ہیں۔  دعائیں مانگتے ہیں۔  نیک اعمال کرتے ہیں،  لیکن زندگی مشکلات سے باہر نہیں نکلتی —  کیوں؟

مسلمانوں کے پاس سب سے زیادہ دولت ہے اورمسلمان ہی سب سے زیادہ غریب ہیں،  اور پھر بھی وہ مسلمان ہیں۔  اخوّت کا درس اور چیز ہے اور اخوّت کا عمل اور۔  مسلمانوں کے لیے تیل کے چشمے ہیں،  سرچشمے ہیں اور مسلمانوں کے پاس چراغ کے لیے تیل نہیں۔  اگر اعمال یہودیوں کے سے ہوں اور عبادت مسلمانوں کی سی ہو،  تو نتیجہ کیا ہوگا؟

Pages: 1 2 3 4 5