اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ ہم سے ہمارے وعدوں کے بارے میں باز پُرس ہو گی۔  وعدہ حال میں ”مستقبل“ کے بارے میں کیا جاتا ہے اور جب مستقبل حال بنتا ہے تو وعدہ کرنے کرنےوالا ”حال “ ماضی بن چکا ہوتا ہے اور بات آئی گئی ہو چکی ہوتی ہے۔

اپنے وعدوں کا پاس کرنے والے لوگ عظیم ہوتے ہیں۔  وہ ہر حال میں اپنے الفاظ کو عمل کا جامہ پہناتے ہیں،  اور سچ تو یہ ہے کہ انسان کی زبان سے نکلاہوا لفظ انسان کے باطن کا اظہار ہے۔  اس طرح نیّات اعمال سے اور اعمال نیّات سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں —  اور انسانوں کی پہچان بھی ہوتی رہتی ہے اور اُن کی عاقبت بھی مرتّب ہوتی جاتی ہے۔

ہماری زندگی چونکہ کثیر مقاصد کی زندگی ہے،  اس لیے ہمارے وعدے بھی کثرت سے ہوتے ہیں اور وعدوں کی کثرت وعدوں کی عظمت ختم کر دیتی ہے۔  اکثر وعدے متضاد اور متصادم ہونے کی وجہ سے پورے نہیں ہو سکتے۔  اگر وعدے کم کیے جائیں تو اُن کے پورا ہونے کا قوی امکان ہو سکتا ہے۔

ہمارے وعدے ہمارے اپنے ساتھ ہوتے ہیں،  لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور خدا کے ساتھ ہوتے ہیں۔  ہمارا عزم ہمارے اپنے ساتھ ہمارا وعدہ ہے۔  اسے پورا کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔  کبھی کبھی حالات اور حادثات رستہ نہیں دیتے اور ہم اپنے عزائم کو حسرتوں میں شمار کر کے چپ ہو جاتے ہیں۔  ہر آدمی کامیاب ہونے کا عزم کرتا ہے اور ہر انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔  یہ واقعات کی سختی کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہم ٹریجڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

لوگوں سے وعدہ بعض اوقات مجبوری کے سبب کیا جاتا ہے۔  وعدہ بات کو کل پر ٹالنے کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن یہ بات ٹلتی نہیں۔  ہمارا وعدہ لوگوں کو منتظر رکھتا ہے اور وعدہ پورا نہ ہو تو لوگ ہمارے کردار کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگتے ہیں۔  حقیقت میں ہر وعدہ مشروط ہوتا ہے کہ اگر حالات سازگار رہے تو وعدہ پورا ہو گا اور اگر وہ تعلق جس کی بنا پر وعدہ کیا جاتا ہے،  قائم ہی نہ رہے تو ایفائے عہد کی ذمہ داری ختم سی ہو جاتی ہے۔  دوست سے وعدہ دوستی کے قیام کی شرط کے ساتھ ہے۔  محبوب سے وعدہ محبّت سے مشروط ہے۔  دوسروں کی وعدہ خلافی کا گلہ کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے خود کیا وعدہ کیا ہوا تھا۔

Pages: 1 2 3 4