میرے سوال کا جواب دماغ کے پاس نہیں ہے۔  دماغ بتا سکتا ہے کہ یہ سب کیا ہے،  لیکن دِل بتاتا ہے کہ یہ سب کیوں ہے اور ایمان بتاتا ہے کہ یہ سب کس نے بنایا۔  سوال کے عذاب سے بچنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم اُس طاقت اور اُس ذات پر ایمان لائیں جس نے پہاڑوں کو اِستقامت دی اور دریا کو روانی —  وہ جو بادلوں سے مینہ برساتا ہے اور زمین سے پودے اُگاتا ہے —  وہ جس نے سورج کو منوّر کیا اور رات کو تاریکی دی —  وہ جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے قائم رکھا اور جس نے پرندوں کو پرواز دی۔  وہ جس نے مجھے پیدا فرمایا،  اُسی نے مجھے گویائی اور بینائی دی۔  وہ کون ہے؟  — بس وہی تو ہے۔  سوال بھی وہی،  جواب بھی وہی۔  میراہونا، اُسی کے حکم سے اور میرا نہ ہونا،  اُسی کی مرضی سے۔  وہ جو بھی ہے،  اُس کے لیے سجدہ ہے — !تسلیم کا اور تعظیم کا!!

Pages: 1 2 3 4 5