الفاط

words

ہر خیال اپنے مخصوص پیرہن میں آتا ہے۔یہ پیرہن الفاظ سے بنتا ہے۔خیال نازل فرمانے والے نے الفاظ نازل فرمائے ہیں۔الفاظ ہی کے دَم سے انسان کو جانوروں سے زیادہ ممتاز بنایا گیا۔انسان اشرف ہے، اس لیے کہ وہ ناطق ہے۔ انسان کو بیان کی دولت سے نوازا گیا اور بیان الفاظ کی ترتیب کا نام ہے۔حُسن، ترتیبِ الفاظ کی اپنی صفت ہے۔اندازِ بیاں بے شک انسان ہی کا ہے، لیکن یہ خوبی دراصل الفاظ کی ساخت میں پنہاں ہوتی ہے۔موزوں الفاظ کا انتخاب ہی انسان کو صاحب ِ طرز بناتا ہے۔ سنگ تراش کا فن یہ ہے کہ وہ پتھر میں چھپے ہوئے نقش کو اُجاگر کرتا ہے۔یہ کام بڑا کام ہے۔ہر آدمی کے بس کا نہیں۔ اسی طرح الفاظ سے مضمون اور مضامین سے الفاظ کے رشتوں کا علم ہی انسان کو مصنّف بناتا ہے۔الفاظ کے بغیر حُسن ِ خیال بس جلوہ ہے،صرف جلوہ— ایک گونگے کے خوبصورت خواب کی طرح — اور خیال کے بغیر الفاظ صرف ایک ڈکشنری ہیں— ایک ڈھیر ہے،ایسی اینٹوں کا،جنہیں کوئی عمارت بننا نصیب نہیں ہوا۔

دنیا میں اصل قوّت الفاظ کی ہے۔اس کائنات کی ابتدا ایک لفظ سے ہوئی— ایک مقدّس لفظ— ایک اَمر،صاحب ِ اَمر کا—”کُن“کے لفظ میں ایک مکمل کائنات، ایک مکمل نظام، ایک مکمل داستان پنہاں تھی۔یہ ایک ایسا لفظ تھا کہ جس کی اطاعت میں آج تک ہر شے عمل پیرا ہے۔ یہ لفظ کا عجب کرشمہ تھا کہ ”نہ ہونے“سے”ہونا“ ہو گیا۔ عدم سے وجود کا سفر  ”کُن“سے شروع ہو ا  اور وجود سے عدم تک سفر بھی اِسی لفظ کی تاثیر کا حصہ ہی ہے۔

الفاظ کی طاقت قدم قدم پر عیاں ہوتی ہے۔قوموں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے الفاظ کا تازیانہ ہی کافی ہے۔قومی و ملّی شعراء کا کمال الفاظ کے دَم سے ہے۔الفاظ خون میں حرکت پیدا کر دیتے ہیں۔ غلامی آزادی میں بدل جاتی ہے۔انسان کے عمل کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ کسی معاشرے میں استعمال ہونے والے الفاظ کا بغور مطالعہ کرنے سے اس معاشرے کا اخلاقی معیار واضح ہو جاتا ہے۔ ترقی کرنے والے معاشروں میں اور طرح کے اَلفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

الفاظ ہی اُمّید کے چراغ روشن کرتے  ہیں اور الفاظ ہی مایوسی کی تاریکیاں پیدا
کرتے ہیں۔الفاظ کی خاص ترتیب حُدی خوانی کا کام کرتی ہے۔ہمارے ترانے ہماری کیفیات
کو ایک نہج کی طرف مائل کرتے ہیں۔دشمنوں کے خلاف صف آرا ءہونے کا عمل الفاظ کی بدولت ممکن ہے۔

محبّت ایک جذبہ ہے، ایک خواہش ہے، کسی کے قریب ہونے کی۔محبّت خاموش بھی ہو سکتی ہے لیکن الفاظ محبّت کو کچھ اور ہی چاشنی اور رنگ عطا کر دیتے ہیں۔محبّت کرنا اپنی جگہ لیکن محبّت کی تاثیر میں ڈوبا ہوا شعر کچھ اور ہی جلوہ ہے۔محبّت اتنی قابل ِ محبّت نہیں ہوتی جتنا اسے الفاظ بنا دیتے ہیں۔

ہمارے رشتے،ہماری چاہتیں،ہماری نفرتیں اس لیے  دیر پا ہیں کہ ہم اُنہیں الفاظ میں ریکارڈ کر دیتے ہیں۔ کسی کو دوست کہہ دینے کے بعد ہم اس کی جفائے وفا نُما کو برداشت کرتے ہیں۔ دوستی کا جذبہ اندر سے کئی دفعہ زخمی ہوتا ہے لیکن ہم جذبوں کے سرد ہونے کے باوجود لفظ دوستی کو نبھاتے ہیں۔الفاظ ہمارے تعلّقات کو استقامت بخشتے ہیں۔ ہم رشتوں کو اس لیے بھی قائم رکھتے ہیں کہ انہیں رشتہ کہہ دیا جا چکا ہے۔کہہ دینا ہی قیام ہے۔ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہونے والا، زندگی بھر مسلمان رہتا ہے۔اگر اسلام کا مفہوم سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔کلمہ پڑھ لینے سے ہی مُہرِ ثبات لگ جاتی ہے۔

الفاظ سے ہی قرآن ہے— خدا کے مقدّس الفاظ،بندوں کے نام،روح القدس کا  لایا ہوا پیغام،پیغمبر ﷺ کے ذریعے سے تمام بنی آدم کے لیے۔ ان الفاظ کی ترتیب اتنی مستقل، کہ اس کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لگا رکھی ہے۔زیر،زبر،نقطہ تک نہیں تبدیل کیا جا سکتا— قرآن کے الفاظ قرآن کے علاوہ استعمال ہوں تو قرآن نہیں — الفاظ خدا کے ہوں تو قرآن ہے۔ نبی ﷺ کے الفاظ حدیث ہیں۔ بزرگانِ دین کے الفاظ ملفوظات ہیں۔ داناؤں کے الفاظ اقوال ہیں۔جتنی مقدّس زبان سے ادا ہوں گے، اتنے ہی الفاظ مقدّس ہوں گے،اتنے ہی
مؤثر ہوں گے۔

ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں۔الفاظ کے حصار میں رہتے ہیں۔الفاظ ہمارا کردار ہیں۔ الفاظ ہمارا ماحول ہیں اور کبھی کبھی  تو الفاظ ہماری عاقبت ہیں۔ الفاظ کانوں کے راستے دل پر اثر کرتے ہیں اور دل پر اثر کے بعد اعضاء و جوارح پر عمل کا حکم نازل ہوتاہے اور یوں انسان کا کردار بنتا رہتا ہے۔اچھے الفاظ پر کچھ خرچ نہیں ہوتا، لیکن اچھے الفاظ سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔الفاظ ہی انسان کو پسندیدہ  یا   ناپسندیدہ بناتے رہتے ہیں۔ الفاظ خوشبو کی طرح ماحول کو معطّر کرتے ہیں۔

ہر سماج اور ہر گروہ کے الفاظ الگ الگ ترتیب رکھتے ہیں۔آپ کسی کے الفاظ یا گفتگو سن کر یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کس پیشے سے تعلق رکھتا ہے۔بازار میں بیٹھنے والے بازاری زبان استعمال کرتے ہیں۔ دارالعلوم کے لوگ اور ہی زبان استعمال کرتے ہیں۔ علماءکی زبان اور ہے۔حکماء کی زبان اور ہے۔اسی طرح جہلاء کی زبان اور ہے۔ فلمی ماحول کے الفاظ اور ہیں، ڈرامے کے اور، نثر کے اور — اور شعر کے اور — شعر کی دنیا میں الفاظ کی ایک بندش بس معنی کے پرت کھولتی چلی جاتی ہے۔ سامعین پر ایک کیفیت طاری کر دینا، شعر کا اعجاز ہے۔دل سے نکلی ہوئی بات دلوں میں ایسے داخل ہوتی ہے کہ سامع کہہ اٹھتا ہے کہ ’’میں نے یہ جانا کہ گویا
یہ بھی میرے دل میں ہے“۔  بولنے والے کا سوز الفاظ میں سوز پیدا کر دیتا ہے۔درد سے گایا ہوا کلام محفل میں عجب سماں پیدا کر دیتا ہے۔ الفاظ کے معنی پیچھے رہ جاتے ہیں۔گانے والے کا سوز قلوب کو زندہ کر دیتا ہے۔

ایک دفعہ عظیم پریم راگی نے اپنی ایک نجی محفل میں ایک واقعہ بیان کیا۔کہنے لگے کہ ایک رات ایک محفل میں انہوں نے بہت گایا۔دیر تک محفل بپا رہی۔ سامعین محظوظ ہوئے۔ بہت ہُن برسا،لیکن رنگ نہ برسا۔ بس اندر ہی اندر وہ کچھ پریشان ہوئے۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ انہوں نے اپنے گُرو کو یاد کیا۔ دل کا چراغ روشن کر کے کچھ الفاظ اپنے پاس سے مرتب کر کے الاپنا شروع کیا۔ الفاظ تھے:

سیّا ں سے سیّا ں مِلا جا رے بالَم         بالَم سے بالَم  ملِا جارے  سیّا ں

بس کیا تھا،دل کے چراغ نے دلوں کے چراغ روشن کر دیے۔محفل میں کیفیات کا عجب عالَم پیدا ہو گیا۔بے خودی،محویّت اور سرشاری کا عالم تھا۔گانے والے کا درد بیدار ہو ا کہ سب کا درد بیدار ہو گیا۔ غرضیکہ الفاظ میں جادو بھرنے والی شے اداکرنے والے کا جذبہ ہے۔بولنے والے کا لہجہ بھی الفاظ کے حُسن کو متاثر کرتا رہتا ہے۔میٹھے بول کو کرخت لہجہ مل جائے تو بول میٹھا نہیں رہتا۔

مولانارومؒ نے ایک کہانی بیان فرمائی ہے۔ایک دفعہ صحرا میں دو قافلے قریب قریب آ     کر ٹھہرے۔ایک قافلہ مسلمانوں کا تھا،دوسرایہودیوں کا۔صبح کے وقت مسلمانوں نے فجر کی اَذان کہی۔نماز اَدا کی۔اتنے میں یہودیوں کے کیمپ کی طرف سے ایک آدمی ایک تھال میں کچھ تحفے تحائف لے کر مسلمانوں کے کیمپ میں داخل ہوا اور اَمیرِ قافلہ سے ملاقات کی تمنّا کی۔ ملاقات ہوئی تو آنے والے نے کہا:”یہ حقیر سا تحفہ ہمارے سالارِ قافلہ نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے“۔ مسلمان اَمیر نے کہا:”آخر کس لیے؟“  آنے والا بولا: ”جناب! آج ہمارے سردار کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہو گیا، آپ لوگوں کی بدولت۔ ہمارے امیر کی ایک بیٹی اسلام قبول کر چکی تھی اور وہ کسی قیمت پر اسلام کو ترک نہ کرتی تھی۔ ہمارے قافلہ سالار نے بڑی کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔آخر آج صبح آپ کے مؤذّن نے اَذان کہی۔وہ کچھ اتنے کرخت لہجے میں تھی کہ ہمارے سردار کی بیٹی اپنے پرانے دین پر واپس آ گئی“۔  نتیجہ یہ ہے کہ مؤذّن
اور مبلغ  کو خوش الحان ہونا چاہیے۔اچھی دعوت کو اچھے انداز سے پیش کرنا ہی اچھی بات ہے۔
رسمِ اذان کو روحِ بلالی ؓ      کی کتنی ضرورت ہے،اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

علاقائی الفاظ علاقائی تہذیب و تمدّن کا آئینہ ہیں۔کسی انسان کے ذخیرۂ الفاظ سے یہ معلوم کرنا آسان ہے کہ وہ آدمی کون سے علاقے کا رہنے والاہے اور کون سے پیشے سے تعلق رکھتا ہے۔تشبیہ اور استعارے کے الفاظ بھی علاقے اور زمانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔صحرائی لوگوں کے الفاظ اور ہیں،کوہستانی لوگوں کے اور۔میدانی لوگوں کی زبان مختلف ہوتی ہے۔

بہرحال الفاظ کی حُرمت بولنے والے کے انداز اور لہجے کے دَم سے ہے۔ مقدّس الفاظ کو منزّہ زبان میسر نہ ہو تو لفظ اپنی تاثیر کھو بیٹھتا ہے۔اللہ کا ارشاد ہے کہ اگر اس قرآن
کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا تووہ بھی اللہ  کی خشیّت سے لرزنے لگ جاتا۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ
قرآن پڑھا جاتا ہے اور سننے والے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔صادق کلام کے لیے صادق
زبان چاہیے۔

ہم نے قوم ہونے کی حیثیت سے الفاظ کے استعمال پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ہم
بے جہت و بے سمت الفاظ کے سیلاب میں ڈوبے جا رہے ہیں۔ہر روز لاکھوں الفاظ اخباروں میں چھپ رہے ہیں۔ کالم کے کالم چھپ رہے ہیں لیکن میٹھے بول ختم ہو رہے ہیں۔”اَز دل خیزد بردل ریزد“ والے الفاظ نظر نہیں آتے۔دلوں کو زخمی کرنے والے الفاظ عام ہیں۔ زخموں کے مرہم کہاں ہیں؟کرامتیں بننے والے الفاظ کہاں غائب ہو گئے؟ انسان کو انسان کے قریب لانے والے الفاظ  گم ہو گئے کیا ؟ گنج شکرؒ ایک میٹھی زبان کی تاثیر کو بھی کہا جا سکتا ہے۔ آج نہ جانے کیوں لوگوں کے پاس شکریہ اَدا کرنے کے لیے نہ وقت ہے،نہ الفاظ۔اپنی کوتاہی پر معذرت کرنے کی نہ توفیق ہے، نہ جرأت۔آج کسی سیاسی اجتماع میں بولے جانے والے الفاظ کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہم لوگ کہاں سے چلے تھے اور کہاں آ گئے۔

تلخ الفاظ معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔میٹھا بول زندہ کرنا چاہیے۔”زندہ رہو اور زندہ رہنے دو“ کے اصول کو اپنایا جائے تو ہمارا اندازِ کلام یکسر بدل ساجائے۔ لوگ اپنی زندگی میں مطمئن ہو جائیں۔میٹھے بول سننے سے زبان میٹھی ہو جاتی ہے اور یوں مٹھاس سے مٹھاس پیدا ہوتی رہے گی۔ جب سے انسان کا احترام کم ہوا، الفاظ کا احترام بھی کم ہو گیا۔الفاظ کے انتخاب میں ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا — اور نتیجہ یہ کہ ہر دل زخمی، ہرانسان آزردہ۔ ہماری زبان تلوار کی کاٹ سے کم نہیں۔

بعض اوقات صداقت کی زبان بھی اتنی تلخ ہوتی ہے کہ بس خدا کی پناہ۔ اگر کسی انسان کی ایک آنکھ کام نہ کرتی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اُس کے منہ پر ہی اسے کانا     کہہ دیا جائے۔ ہر چند کہ یہ صداقت ہے لیکن یہ ایک بدتمیزی کا مظاہرہ ہے۔ صداقت کا غیر محتاط اظہار بھی باعث ِ پریشانی ہو سکتا ہے۔

ایک دفعہ ایک بادشاہ نے ایک دست شناس و ستارہ شناس انسان کو بلایا۔اس سے اپنا احوال پوچھا،مُنجمّ  نے حساب لگایا،زائچہ بنایا اور بادشاہ کو اطلاع دی:”جہاں پناہ! آپ کے سب عزیز آپ کے سامنے مر جائیں گے“۔ بادشاہ اتنی بُری خبر پر بڑا پریشان ہوا۔ اسے غصہ آ گیا کہ منجمّ نے کیا خبر دی ہے۔اس نے منجمّ   کو گرفتار کروا  دیا۔سلطنت میں منادی کروا  دی گئی کہ کوئی اور منجمّ بادشاہ کے لیے  حساب لگائے۔ایک آدمی حاضر ہوا، اس نے زائچہ بنایا،حساب لگایا اور کہا:”جہاں پناہ! آپ کی عمر طویل ہے۔آپ اپنے سب عزیزوں سے زیادہ عمر پائیں گے“۔ بادشاہ خوش ہو گیا۔ بولا:”مانگ کیا مانگتا ہے“۔ منجمّ نے کہا: ”جہاں پناہ!بس میرے استاد کو رہا کر  دیں“۔ سلطان نے وضاحت چاہی تو منجمّ نے کہا:”گرفتار منجمّ میرا اُستاد ہے۔اُس نے بھی وہی کچھ بتایا جو میں نے بتایالیکن وہ الفاظ کے انتخاب میں محتاط نہ ہو سکا۔آپ عزیزوں سے زیادہ عمر پائیں یا آپ کے عزیز آپ سے پہلے مر جائیں،بات ایک ہی ہے لیکن ادائیگی مختلف ہے“——
اور یہی چیز اہم ہے کہ ہم الفاظ کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

الفاظ بھی خاندان رکھتے ہیں۔قصیدے کے الفاظ اور ہوتے ہیں اور مرثیے کے اور،تنقید کے اور، توصیف کے اور، رزمیہ اور،عشقیہ اور۔ غزل کے الفاظ اور ہیں، مثنوی کے اور۔  کیایہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ شرافت کے الفاظ کون سے ہیں۔ بدمزاج ہونا اتنا خطرناک نہیں جتنا بدتمیز ہو جانا، کیونکہ بدتمیز آدمی الفاظ کے غلط استعمال کا مجرم بھی ہے۔

الفاظ کے صحیح استعمال کی توفیق، نعمت ہے۔ یہ نعمت بھی کم انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔ الفاظ سے ماحول کو خوشگوار بنانے کا کام لیا جائے تو بڑی بات ہے۔خالی الفاظ نگلنے اور الفاظ اُگلنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ الفاظ سے ماحول روشن کیا جائے۔الفاظ سے دلوں کو خوش کیا جائے۔الفاظ سے تعمیرِملّت کے عظیم کام میں شامل ہونے کے لیے  لوگوں کوآمادہ کیا جائے۔ الفاظ حقیقت ہیں۔ الفاظ امانت ہیں۔ الفاظ دولت ہیں۔ الفاظ طاقت ہیں۔انھیں ضائع نہ کیا جائے۔انھیں رائیگاں نہ ہونے دیا جائے۔

حضرت واصف علی واصفؒ

Facebook
Threads
Pinterest
Twitter
Reddit
Print