ہر اِنسان مصروفِ عمل ہے۔ عمل ہی شاید زندگی ہے۔ حکم ہے کہ اِنسان کو محنت کرنے والا بنایا گیا۔ اِنسان محنت کرنے پر مجبور ہے۔ ہمہ حال سرگرمِ عمل رہنے والا اِنسان اپنے عمل سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔ اِنسان مقصد کے حصول کے لیے بھاگتا ہے اور بھاگتا ہی رہتا ہے۔ ایک مقصد کی تلاش مختلف مقاصد کی آرزو بن کر عمل کی معنویت کو بے معنی کر دیتی ہے۔
ہم اپنے عمل کو صحیح مانتے ہیں، لیکن عمل کے نتائج کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ اِنسان عمل کی، کوشش کی، جدوجہد کی چکّی تلے پِستا جا رہا ہے۔ اُسے معلوم نہیں کہ اُس کے پاؤں اُسے کہاں لے جا رہے ہیں۔ دفتر سے دفتر تک، آخر کب تک؟ زندگی میں عمل جاری ہے۔ کولھو کا بیل چل رہا ہے۔ چلتے چلتے عمر کٹ جاتی ہے اور فاصلہ طے نہیں ہوتا۔ ضرورتیں اور تقاضے بدلتے رہتے ہیں اور اِس طرح عمل بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اِنسان پلاننگ کرتا ہے مستقبل کی، روشن مستقبل کی، لیکن جب وہ مستقبل حال بنتا ہے تو شاید اتنا روشن نہیں ہوتا۔ اِنسان اپنے عمل کو بدلتا ہے اور اِس طرح ایک نئے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور پھر وہی نتیجے اور پھرنیا عمل — یوں زندگی کٹ جاتی ہے۔ اِنسان سوچتا ہے کہ آخر اِس تگ و دو کا مقصد کیا تھا؟
ہمیں بچپن سے تعلیم دی جاتی ہے کہ محنت کرو، بڑے آدمی بنو — اِس تعلیم کی وجہ سے اِنسان کوشش کرتا ہے۔ اپنے قد سے بڑا ہونے کی آرزو میں لوگ ہلاک ہو تے ہیں۔ کوشش اور مجاہدہ بہت کچھ دے سکتا ہے، لیکن ایک گدھے کو کو ئی مجاہدہ گھوڑا نہیں بنا سکتا۔
ہر زندگی اپنی حدود میں مقید ہے۔ ہر اِنسان اپنے دایرۂ عمل میں رہن رکھ دیا گیا ہے۔ اِنسان پابند ہے، محدود ہے۔ آرزو پابند نہیں، اِس لیے محدود اِنسان کا لامحدود خواہشات کے لیے عمل کہیں نہ کہیں راستے میں دَم توڑ دیتا ہے اور اِنسان مسلسل عمل کرنے کے باوجود خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں کر سکتا۔
اِنسان شہرت کے لیے عمل کرتا ہے۔ ناموری کی آرزو نے بڑے بڑے قافلے لُوٹے ہیں۔ ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بڑے نامور تھے، لیکن ہم غور نہیں کرتے کہ ایک نامور کے دَور میں اُس کے گردو پیش لاکھوں غیر مشہور اِنسان بھی اسی قسم کے عمل میں مصروف تھے۔ بابر کی فتح ابراہیم لودھی کی شکست بھی ہے۔ ہم فتوحات کرنے والوں کو دیکھتے ہیں اور شکست کھانے والوں کونظر انداز کرتے ہیں۔ ہم نامور لوگوں جیسا عمل کرتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یکساں عمل دو اِنسانوں کے لیے یکساں نتائج نہیں مرتب کرتا۔ پیغمبروں جیسا عمل ہمیں پیغمبر نہیں بنا سکتا۔ میری کربلا، ہماری کربلا، امام حسینؓ جیسی کربلا نہیں ہوسکتی۔ مَیں، آج کے دَور کا اِنسان، خواہشاتِ نفس اور تقلید کے حصار میں ہوں۔ مجھے میرا عمل وہ نہیں دے سکتا، جو ہمارے پیشروؤں کو دے گیا۔ مَیں سقراط جیسا علم رکھنے کا عمل کروں، تو بھی سقراط نہیں بن سکتا۔ میرا عمل اُن کے عمل کے برابر ہو، تو بھی میرا مقام اُن کے مقامات سے مختلف رہے گا۔ یہی عمل کی خامی ہے اور یہی عمل کی خوبی بھی۔
غور کرنے والی بات ہے کہ ہم ایک نئے دَورمیں پیدا ہوئے اور ہمارا عمل تقلید کے علاوہ نہ ہو توہم پرانے دَور کے نتائج کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور پرانے دَور کے نتائج کے حصول کی آرزو ہی کوتاہئ فکر ہے۔ اگر فکر ہی صحیح نہ ہو، تو عمل کیسے صحت مند ہو سکتا ہے۔