جب انسان ایک دوسرے سے بیزار ہو جائیں، اپنے آپ سے، اپنے مستقبل سے مایوس ہو جائیں، اُن کی اُمّیدیں غیر ممالک سے وابستہ ہوں، اُن کے اثاثے، اُن کا سرمایہ، ملک سے باہر ہو، تو لازمی بات ہے کہ وہ اپنے وطن میں رہ کر بھی خود کو غریب الوطن محسوس کریں گے۔
ہر انسان پردیسی ہے۔ پردیس ہمارا محبوب دیس ہے۔ انسان کی مجبوری یہ ہے کہ اپنے محبوب کے وطن کو اپنا محبوب سمجھتا ہے۔ بیگانگی، اجنبیت، لاتعلقی، بے حسی، خود غرضی، مطلب پرستی، اَنا پرستی اور خود پرستی انسان کو کبھی وطن پرستی سے آشنا نہیں ہونے دیتی۔ ایثار، وابستگی، محبّت اور ہمدردی کے فقدان نے دیس میں پردیس پیدا کر رکھا ہے۔ یہ صورتحال اندر ہی اندر یکجہتی، ہم آہنگی اور حبّ الوطنی کو گھُن کی طرح کھائے جا رہی ہے۔
ویسے بھی اِس دنیا میں خود کو پردیسی محسوس کرنا فطری بات ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم کہیں اور سے آتے ہیں اور کچھ عرصہ قیام کے بعد ہم واپس بلا لیے جائیں گے۔ اپنے دیس کو جانا ہوگا — یہاں ٹھہرنے کا مقام نہیں — زندگی کے مقدّر میں پردیسی ہونا لکھا جا چکا ہے۔ یہ تحریر کاتب ِتقدیر کی ہے، اٹل ہے — اسے ہو کر رہنا ہے۔ پیر، پیغمبر، ولی، درویش، مردانِ خدا کوئی بھی ہو، یہاں مدام قیام نہیں کر سکتا۔ زندگی کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی ایک نامعلوم موج ہمیں اِس کنارے پر چھوڑ گئی ہے اور کسی نامعلوم مدت کے بعد کسی نامعلوم لمحے میں ایک نامعلوم لہر ہمیں اٹھا کر اُس پار واپس پھینک دے گی۔
یہ روزمرّہ کا مشاہدہ ہے کہ زندگی کے بارونق بازار سے لوگ رخصت ہو جاتے ہیں۔ شہر آباد رہتے ہیں لیکن شہری بدل جاتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ ہر دس سال کے بعد چہرے بدل جاتے ہیں۔ گلیاں وہی، مکان وہی، شہر وہی، شہر کی رونق وہی، لیکن وہ چہرے کہاں گئے! وہ مانوس و محبوب چہرے — رخصت ہو گئے، چلے گئے، اپنے گھر — کون سے گھر — اپنے وطن — کون سے وطن! اگر اُن کا وطن کوئی اور دیس تھا، تو یہ دیس — اُن کا، ہم سب کا پردیس ہے! عجب حال ہے۔ دیس میں پردیس، سب کے لیے، ہمیشہ کے لیے!!
ہر شہر میں، آباد شہر میں، بارونق اور جگمگاتے شہر میں قبرستان کا ہونا ایک عجب داستان ہے۔ یہ داستان اہل ِ دل کے لیے عبرتوں اور حقیقتوں کا دبستان ہے۔ اہل ِ فضل اور اہل ِ فکر حضرات اپنے اصل دیس کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ سرِ پُر غرور کا انجام نگاہ میں رکھتے ہیں۔ وہ تاجوری سے نوحہ گری تک اپنے حاصل کا لاحاصل دیکھتے رہتے ہیں۔