جب قائدین کی بہتات ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ قیادت کا فقدان پیدا ہو گیا— قائدین کی کثرت،ملّت کو تقسیم کر کے راستے کے تعیّن کو دشوار بنا دیتی ہے—وحدتِ مقصد ختم ہو جائے تو کثیرالمقصدیت پیدا ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منزل کا مفہوم ہی مبہم ہو کر رہ جاتا ہے۔
ہر قائد اپنے گروہ کو الگ الگ سمت دکھاتا ہے، الگ الگ شعور عطا کرتا ہے، الگ الگ ضرورتیں پیدا کرتا ہے اور علاج کے الگ الگ طریقے ایجاد کر کے ذہنوں کو اُلجھا دیتا ہے۔ ہر شخص پاکستان اور پاکستانی قوم کو کنارے لگانا چاہتا ہے اور ہر قائد ایک الگ کنارے کی نشاندہی کرتا ہے، نتیجہ یہ کہ کشتی منجدھار میں رہتی ہے۔
قیادت مسیحائی کی طرح ایک وبا کی صورت اختیار کر گئی ہے، قوم کا پریشان ہونا منطقی نتیجہ ہے—ہر قائد پاکستان کے زوال کے اسباب بیان کرنے میں رطب اللسان ہے اور عروج کا راستہ اپنی ذات تک مخفی رکھاجاتاہے،یعنی عروج کے لیے اس قائد کے ہمراہ چلنا شرط ہے۔ قوم کے پاس اتنے رہنما ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔ راستہ ہی دشوار ہو کے رہ گیا ہے۔ آج کا ہر قائد اپنی صداقت کا حوالہ ماضی سے لیتا ہے۔ قائدِ اعظمؒ نے یہ فرمایا، وہ فرمایا —لہٰذا قوم پر لازم ہے کہ وہ اِس کی جماعت میں شامل ہو جائے —ہر قائد،اقبالؒ کے کسی شعر سے آغازِ تقریر کرتا ہے اور اقبالؒ کے ہاں اتنے اشعار ہیں کہ ہر سیاسی جماعت کے منشور کے لیے اقبالؒ ہی سند ہے۔
سلطانیِ جمہور کے زمانے کی نوید ہو کہ ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کا ذکر،دیوِاستبداد کا تذکرہ ہو کہ غریبوں کو جگانے اور کاخِ اُمراء کے دَرودِیوار ہلانے کی بات ہو،اقبالؒ کے کلام میں موجود ہو گی—اقبالؒ انسانوں کی طرف سے اللہ کے سامنے شکوہ کرتا ہے اور اللہ کی طرف سے انسانوں کو جوابِ شکوہ مہیا کرتا ہے—اس کے کلام میں کیا بات نہیں ہو گی۔ اقبالؒ ترقی پسند ہے، ارتقاء کا قائل ہے، استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، مساوات کا درس دیتا ہے—بندہ و بندہ نواز کو ایک ہی صف میں دیکھنا چاہتا ہے۔اقبالؒ کا کلام آج کے بہت سے قائدین کے لیے نعمت ہے۔ اس کے برعکس کچھ جلسے ایسے بھی ہیں،جن کی ابتدا اقبالؒ کے اس شعر سے ہوتی ہے:
؎ قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدﷺ سے اُجالا کر دے