حق والے کو اُس کا صحیح حق مل جانا ہی عدل ہے۔مجرم کو اُس کے جُرم کے مطابق سزا مل جائے تو عدل قائم ہو جاتا ہے۔ کسی ترازو تولنے والے کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ دونوں پلڑے کس طرح ہم وزن کیے جاتے ہیں۔اِسی ہم وزن کرنے کو عدل کرنا کہتے ہیں۔ ترازو کو ڈنڈی نہ مارنا چاہیے۔کم تولنا، کم وزن کے اوزان استعمال کرنا عدل نہیں، ظلم ہے۔ملاوٹ کر کے وزن برابر کر دینا بھی اِسی ظلم کا حصّہ ہے۔
عدل کا میدان بڑا وسیع ہے۔ یہ اِنسان کی تنہائی سے شروع ہو کر میدانِ حشر تک پھیلا ہوا ہے۔ جوشخص اپنی تنہائی سے عدل نہیں کرتا، وہ زندگی میں کیا عدل کرے گا؟ یعنی خیال عادل نہ ہو تو عمل عادل نہیں ہو سکتا، کبھی نہیں۔ظاہر و باطن میں فرق رکھنے والا ہی ظالم ہے۔ ایک سے زیادہ زندگیاں گزارنے والا عادل نہیں ہو سکتا۔ عادل ہمہ حال عادل ہے۔ اُس کی بات عدالت، اُس کی خاموشی عدالت، اُس کی گواہی عدالت، اُس کے فیصلے عدالت، اُس کی زندگی عدالت اور اُس کی موت بھی ایک بہت بڑی عدالت!!
حکم ہے کہ میزان کو ڈنڈی نہ مارو۔ حق کو باطل کا لباس نہ پہناؤ۔ حق بات کا برملا اظہار کرنے سے قطعاً نہ ہچکچاؤ۔ حق، حق ہے، اسے بیان ہونا چاہیے۔ حق پر پردہ ڈالنے والے کب تک کتمان کریں گے؟ آخر سُورج نے نکل آنا ہے۔زمین میں چھپے ہوئے راز تک ظاہر ہو جائیں گے۔ نِگلا ہُوا اُگلنا پڑے گا۔یہ امانت گاہ ہے، یہاں سے صرف عادل ہو کر گزرنا ہے۔ سچ کو سچ کہو اور جھوٹ کو جھوٹ۔ دُودھ کو دُودھ اور پانی کو پانی۔ دِن کو دِن،رات کو رات۔ سچ اور جھوٹ کو ملا کر بولنے والا، بڑے دروازوں اور خوبصورت مکانوں کے اندر عذاب کی زندگی بسر کرتا ہے۔ لوگ اُسے خوش سمجھتے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ خوشی نام کی کوئی چیز اُس کے پاس نہیں آ سکتی۔ البتہ وہ شعورِ ضبطِ غم کو خوشی کہہ کر اپنے آپ کو دھوکا دے سکتا ہے۔
عدل کرنا صرف خوف ِخدا اور فضل ِ خدا سے ممکن ہے۔ورنہ یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ عادلانہ زندگی ہی پُل صراط ہے۔ عادل بننے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے کہ اِنسان پہلے یہ سوچے کہ کون سا دِین عدل و مساوات کے لیے صحیح ماحول پیدا کرتاہے۔ یہ سوال ہے جس کا جواب عدل کی دُنیا میں داخل ہونے سے پہلے دریافت کرنا پڑتا ہے اور جس نے اِس سوال کا جواب غلط دیا، وہ عادل نہیں ہوتا۔ ایک کافر اگر صحیح لین دین کرتا ہوا پایا جائے، تو اُسے عادل سمجھنے سے پہلے سوچنا چاہیے — اور سوچنے کے بعد اِسی نتیجہ پر پہنچا جائے گا کہ وہ عادل نہیں ہو سکتا۔ عمل سے پہلے خیال کا عادل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر خیال عادل ہو اور عمل نہ ہو تو ایساشخص سند نہیں ہو سکتا۔ اسے عادل نہیں کہا جا سکتا۔ سیرت پر کتابیں لکھنے والے غیر مسلم کبھی عادل نہیں کہلا سکتے۔ عادل علم و عمل کا عادل ہے۔
عدل اِنسان کی زندگی کے ہر حصّے میں ضرور ی ہے۔ عدل اِنسانی وجود کے اِستعمال میں توازن کا نام ہے۔ ایک حصّہ دوسرے حصّوں کو کھاتا چلا جائے تو عدل نہ ہوا۔ وجود کو موجود رہنا چاہیے، لیکن عدل کے ساتھ۔
اِنسان کے لیے یہ قابلِ غور بات ہے کہ اُس کے خیال کا عدل کیا ہے۔ عمل نیّت سے پہچانا جاتا ہے لیکن نیّت عمل کرنے والے کو معلوم ہے۔اگر عمل سے نیّت کو پہچانا جاتا تو آج کچھ بھی نہ پہچانا جا سکتا۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہو سکتا ہے کہ وہ عمل سے نیّت کو پہچان سکتے ہیں۔ اِسی بے بنیاد دعویٰ کی قطعی نفی کے لیے تو ارشادِ نبویؐ ہے کہ اعمال نّیت سے ہیں۔