دنیا میں سب سے آسان کام نصیحت کرنا ہے اور سب سے مشکل کام نصیحت پر عمل کرنا ہے۔ میں نے اپنے لیے آسان کام چن لیا ہے اور آپ — آپ کی مرضی، مشکل میں پڑیں یا مشکل سے باہر رہیں۔
نصیحت کرنے کا عمل زندگی کی طرح بہت پرانا ہے۔ غالباً پہلے انسان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی نصیحت کا عمل موجود تھا۔ نصیحت ایک حکم کی طرح نافذ ہوتی تھی — ایسے کرو، ایسے نہ کرو۔ وہاں جاؤ — وہاں نہ جاؤ — سجدہ کرو — اُس کا سجدہ کرو اور اُس کے علاوہ کا سجدہ نہ کرو — ماں باپ کی اطاعت کرو — شیطان کی اطاعت نہ کرو — غرضیکہ نصیحت سنو اور مانتے چلے جاؤ — زمین کے سفر میں آسمان کی نصیحتیں سنو اور انہیں ماننے کا حوصلہ پیدا کرو۔
ماضی کے اَوراق میں ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک آدمی، ہم میں سے ہی، ہمارے سامنے ایک بلندی پر کھڑا ہو گیا اور ایک رعب دار آواز میں نصیحت کرنے لگ گیا کہ شرک نہ کرو — زمین پر اکڑ کر نہ چلو — اور وغیرہ وغیرہ۔اِن لوگوں کو کس نے اجازت دی کہ لوگوں کو خطاب کریں کہ اے انسانو! غور سے سنو!— ایک وقت آنے والا ہے جب تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا — جب چھپے ہوئے راز ظاہر ہوں گے اور جب انسان کو اُس کے اعمال کے مطابق ایک عاقبت ملے گی۔
بہرحال نصیحتیں چلتی رہتی ہیں — خطاب جاری رہتے ہیں اور سماعتیں بے حس ہو جاتی ہیں — نصیحت کرنے والے شور مچاتے رہتے ہیں کہ اے محترم اندھو! آگے قدم نہ بڑھانا — آگے اندھا کنواں ہے — لیکن عقل کے اندھے سُنی اَن سُنی کرکے دھڑام سے گرتے رہتے ہیں — اور پھر گلہ ہوتا ہے کہ کاش مجھے کوئی لاٹھی مار کے سمجھاتا، کہ واقعی آگے اندھا کنواں ہے۔ یہ لوگ سنتے ہیں لیکن اِن کے دل پر اثر نہیں ہوتا۔ یہ لوگ دیکھتے ہیں لیکن اِنہیں نظر کچھ نہیں آتا — یہ لوگ فلسفی ہیں لیکن یہ بیچارے سمجھ نہیں سکتے — اِن کے پاس دل ہے لیکن احساس نہیں — یہ لوگ مغرور ہیں لیکن اِن کی متاعِ حیات قلیل ہے — یہ طاقت سے حکومت کرنا چاہتے ہیں، اِن کے پاس خدمت کرنے کا شعور نہیں — بس اس طرح یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ آوازیں آ رہی ہیں کہ غافلو! سنو غور سے، گَجر کی آواز سنائی دیتی ہے، کان دھرو، وقت کا ناقوس بج رہا ہے۔ رحیلِ کارواں کے معنی تلاش کرو۔ بانگ ِ درا کی تفسیر ڈھونڈو،بالِ جبریل کا مفہوم سمجھو، لیکن نہیں — سننے والوں کے کانوں میں گویا پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا جا چکا ہے۔ خواہشات کا اُودھم مچا ہوا ہے، نصیحت کی آواز کیسے سنائی دے!
لوگ مطمئن ہیں کہ اب کوئی سقراط موجود نہیں — اچھا ہوا کہ سعدیؒ رخصت ہو گئے — بھلا ہو اِقبالؒ کا، کہ اب وہ بھی نہیں — کچھ لوگوں کے لیے یہ اَمر باعث ِاطمینان ہے کہ اب نئی نسل پرانے مذہب سے آزاد ہو رہی ہے — خوش ہیں لوگ اِس بات پر کہ اللہ نے نبی بھیجنے کا سلسلہ ہی بند فرما دیا۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اُن کو نجات مل گئی، عقیدتوں اور عقیدوں سے — اور وہ آزاد ہو گئے نصیحتوں سے، ڈرانے والوں سے، آگاہِ راز کرنے والوں سے۔ اُن کے لیے صرف حال ہے — نہ کوئی فردا،نہ ماضی — بس صرف یہی دَور ہے، یہی زمانہ ہے۔ آئندہ کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا — اللہ اپنے گھر خوش، ہم اپنے گھر — لیکن — لیکن ایسے نہیں ہو سکتا۔ پیدا کرنے والے نے زندگی اور موت پیدا کی — یہ دیکھنے کے لیے کہ کون نصیحت کرتا ہے اور کون نصیحت پر عمل کرتا ہے — کون سعادت مند ہے جو دوسروں کے تجربات سے فائدہ حاصل کرتا ہے — کون ہے خوش نصیب جو نصیحت کے چراغ کی روشنی میں زندگی کی تاریکیوں سے آزاد ہو جاتا ہے، اور کون ہے وہ جو اِس زندگی اور اُس زندگی کے انعامات سے سرفراز ہوتا ہے۔