ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اے اِنسان! تُو محنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ پس اپنے ربّ کے راستے کی طرف محنت کر! یہ بات طے شدہ ہے کہ اِنسان جس کے پاس اشرف ہونے کا لقب ہے، اُسےمحنتی بنایا گیا ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ کرے گا اور کچھ نہ ہوا تو غلطی کرے گا۔ کام کے لیے محنت کرے گا اور کبھی کبھی تو بیکار رہ کر بھی محنت کرے گا۔
بیکاری پر بیماری سے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے، بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بیکار آدمی سب سے زیادہ محنت کرتا ہے۔ کام کو ذریعۂ معاش بنانے کا طریقہ تقریباً ہر ایک کو معلوم ہے، لیکن بیکار رہ کرزندہ رہنے کا طریقہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ اِن میں کچھ لوگ مانگ کر گزارہ کرتے ہیں، لیکن یہ کام بھی آسان نہیں ہے۔ بہر حال اِنسان محنت کے لیے ہے۔
ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف اِنسان کی محنت کے جلوے ہیں۔ اِنسان نے زمین کو سنوارا ہے۔ اُس نے بڑی محنت سے، مسلسل محنت کے ساتھ، محنت ِشاقّہ کے ساتھ شہر بسائے ہیں۔ اِنسانی زندگی اِنسانوں ہی کی محنت کے بنائے ہوئے راستوں پر گامزن ہے۔
اِنسان نے پہاڑوں پر بستیاں بنائیں۔ صحراؤں میں اُس نے اپنے مسکن تلاش کیے۔ اُس نے سمندر کے اندر راستے بنائے۔ اِنسان کی محنتیں ہر طرف آشکار ہیں۔ سائنس ہو یا آرٹ کی دنیائیں، سب اِنسان کی محنت کی رہین ِ منّت ہیں۔ اِنسان کے اندر یوں لگتا ہے جیسے پارہ ہے، اُسے قرار نہیں۔ وہ سوچتا ہے، محنت کرتا ہے، فاصلے طے کرتا ہے ۔ وقت کے فاصلے ہوں یا زمین و آسمان کے فاصلے، اُس نے اپنی محنتوں سے یہ فاصلے طے کیے ہیں۔
شاید اِنسان کی خواہش اُس کی محنت کا باعث ہے۔ خواہش اِنسان کو دوڑاتی ہے اور آرزو کے تجویز کردہ راستوں پر اِنسان محنت کرتا رہتا ہے۔ کبھی وہ ماہیت ِ اَشیاء جاننے کے لیے محنت کرتا ہے۔ غاروں میں چھپے ہوئے راز دریافت کرتاہے۔ سمندروں کے چھپے ہوئے خزانے نکالنے کے لیے محنت کرتا ہے۔ اُس کے سامنے ایک بہت بڑی دنیا ہے، پھیلی ہوئی دُنیا، جو اُسے دعوت دیتی ہے کہ دُنیا کو دریافت کیا جائے، اِسے حاصل کیا جائے اور اِنسان اِس کام کے لیے محنت کرتا چلا آ رہا ہے۔
اِنسان اپنی محنت سے اپنے مقاصد حاصل کرتاہے اورکبھی کبھی اپنی محنت سے دُوسروں کی محنت کے انعام چھینتا ہے۔ محنت کرنا اِنسان کی جبلّت ہے۔ اُس کے اندر کشمکش ہے اور وہ باہر کشمکش پیدا کرتا ہے۔ سراغِ ہستی کی دریافت ایک کٹھن کام ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے اور اِنسان اِس چیلنج کو قبول کرنا جانتا ہے۔ راز دریافت کرنے کے لیے اِنسان نے کئی کئی سال محنت کی۔ کئی کئی نسلیں محنت کرتی رہیں۔ محنت کرتے ہوئے کئی زمانے اور کئی جگ بِیت گئے، تب کہیں جا کر وہ گوہرِ مقصود ملا۔ وہ گوہرِ مقصود اگر کوئی فانی شے ہے تو محنت رائیگاں ہے۔اِس دنیا میں جہاں محنت نے بڑے بڑے کرشمے سر انجام دیے ہیں، وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ محنتیں رائیگاں ہو گئیں — اُن کے لیے افسوس!