میری دُعا بھی بدل گئی ہے۔ مَیں دُعا کرتا ہوں، اے اللہ! مریضوں کو ظالم ڈاکٹروں کے عذاب سے بچا، شریعت کو عُلمائے سُو سے بچا، طریقت کو خرقۂ سالُوس کی دسترس سے بچا۔ میرے اللہ! ہمیں ہمارے اعمال اور خیال کی عبرت سے بچا۔
مَیں یہ دُعا نہیں کرتا کہ دشمن مر جائے۔ مَیں کہتا ہوں کہ دوست زندہ ہو جائیں، جذبے بیدار ہو جائیں، عزم پیدا ہو جائے، وحدتِ افکار و کردار حاصل ہو جائے، اِس قوم میں یقین کی دولت عام ہو جائے۔ میرے اللہ !ہمیں ہمارے وسوسوں سے بچا، ہمارے اندیشوں کا مُنہ کالا کر، ہمیں اپنے دعووں کی عظمت سے متعارف کرا۔ میرے مولا! تاریخ کی رُسوائی سے بچا، ہمیں معافی کا راستہ دِکھا!!
میرے مولا! اِس مُلک کے نوجوان طالب علموں کو اِس مُلک کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ مَیں خواب دیکھنے کا قائل نہیں۔ مَیں جانتا ہوں کہ خواب دیکھنا یا خواب دیکھنے کے خواب دیکھنا درحقیقت، حقیقت کو نہ دیکھ سکنے کے اضطراب کا نتیجہ ہے۔ خواب اُس وقت تک حقیقت نظر آتا ہے، جب تک ختم نہ ہو۔ خواب میں خواب کو خواب سمجھنا، اُتنا ہی مشکل ہے جتنا اپنے آپ میں ڈوب جانا۔
خواب جھوٹا ہو تو عذاب ہے، مصیبت ہے، اور اگر خواب سچا ہو تو بھی تعبیر کا انتظار بے قرار رکھتا ہے۔ ایسا خواب بھی کیا دیکھنا، جس کی تعبیر سمجھ میں نہ آئے۔ خواب کی اُونچی اُڑان زندگی کے تنگ ہونے والے دائرے کو توڑ نہیں سکتی۔
بہرحال مَیں خواب کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ یہ زندگی ایک خوابِ گراں ہے۔ ہم سب نیند کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جب آنکھ بند ہو گی تو آنکھ کُھلے گی۔
مَیں بہت کم خواب دیکھتا ہوں۔ وہ مجھے سونے ہی نہیں دیتا۔ ہاں، البتہ ایک دفعہ مَیں نے خواب دیکھا، مَیں قائدِ اعظمؒ ؒسے ملاقات کے لیے جا رہا ہوں۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ مَیں بہت سے سوالات کو جوابات کے حوالے سے پہچانتا ہوں، لیکن اگر قا ئدِ اعظمؒ نے مجھ سے کوئی سوال پوچھ لیا تو شاید میرے پاس کوئی جواب نہ ہو گا۔ مَیں ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ آتا ہوں۔ بڑا نادم ہوتا ہوں کہ میرا علم ناقص تو نہیں؟