بہار کا موسم، پیار کا موسم، گم شدہ چہروں کے دیدار کا موسم، تھل، بیلے، بار کا موسم، پِیلُو پکنے کا موسم، در اصل وصالِ یار کا موسم بڑے انتظار کے بعد آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے ” پِیلُو“ کو تکمیلِ عرفان بنا دیا۔
عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کا فاصلہ بس ” پِیلُو پکنے“ کی دیر تک ہے۔ پِیلُو چننے سے ابتدا ہے۔ سب سنگی ساتھی مل کر چنتے ہیں، پیار کی اَمرتیاں، محبّت کے” پِیلُو “ — پِیلُو چنتے چنتے آنکھیں ملتی ہیں، دل ملتے ہیں اور پھر جدائی کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے — پِیلُوختم ہو جاتی ہیں اور انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ چہروں کی سرخیاں رخصت ہو جاتی ہیں اور انسان ” ہکّا بکّا“ رہنے لگتا ہے۔ پھر کب آئے، پِیلُوکا موسم اور یار مل کے پِیلُوچنیں!!
”آ چُنوں رَل یار، پِیلُوپکیاں نی وے“
( پِیلُوپک گئے، آؤ یار مل کر چنیں)
محبّت سے آشنا، محبّت کی رُوح سے آشنا، محبّت کی تاثیر سے آشنا، محبّت کے کرشموں سے آشنا، محبّت کے اعجاز سے آشنا لوگ، ہر موسم اور ہر رُت میں پیار کی بہار ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ ہر مجاز میں حقیقت تلاش کر لیتے ہیں — ہر شے میں جلوہ تلاش کر لیتے ہیں، ہر وجود میں محبوبِ حقیقی کو موجود پاتے ہیں — وہ آشنائے راز ہوتے ہیں اور راز آشنا کرنا جانتے ہیں۔