جب تک رات اور دن قائم ہیں،  اِختلاف قائم رہے گا۔  اِختلاف ہی شاید زندگی ہے،  زندگی کا حُسن ہے،  زندگی کا دوام ہے۔  خالق نے تخلیقِ کائنات میں اِختلافِ لیل و نہار ہی نہیں،  اِختلافِ عقائد، اِختلافِ مزاج،  اِختلافِ مشاہدات بلکہ اِختلافِ حالات کو تخلیق فرما کر فنِ تخلیق کے کمالات کا اظہار فرمایا ہے۔

ہر عقیدے کے مخالف ایک عقیدہ ہے، ہرآرزو کے برعکس آرزو ہے،  ہر مزاج کے رُوبرو ایک مزاج ہے، ہرجنس کے مقابل ایک جنس ہے، ہر اَنا کے سامنے ایک اَنا ہے۔  ہر خودی کی ضد ایک خودی ہے،  ہر خوشی کے باطن میں غم ہے اور ہر مایوسی کے عالم میں اُمّید جلوہ گر ہے  !

دُنیا میں اگر کوئی شے ناممکن ہے تو ہم رنگی و یک رنگیِ  عقیدہ ہے۔ اللہ کریم نے اپنی لامحدود قدرتوں کے سامنے اپنی ہی مخلوق میں سے ایک قوّت  —  اپنی ذات کے مقابل،  بغاوت و طاغوت میں قائم  — بیان فرمائی ہے۔  قادرِ مُطلق کے حکمِ مُطلق سے انکار کرنے کا حوصلہ رکھنے والا کون ہو سکتا ہے؟ اگر ہے،  تو کیوں ہے؟ اُسے جرأتِ انکار کیوں ہے؟ اُسے موت کیوں نہ آئی؟ وہ فنا کیوں نہ کر دیا گیا؟ اگر شیطان نے بغاوت کی بھی،  تو اِس بات کا بیان قرآن کی آیت کیوں ہے؟ اختلاف کو عالی ظرفی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنا،  بقائے حیات اور بقائے اختیار کا ثبوت ہے۔  خالق مخالف کو تباہ نہیں کرتا،  مخلوق مخالف کو تباہ کرنا چاہتی ہے  — یہی خالق اور مخلوق میں فرق ہے۔  لوگوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا — اللہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ایسی خبر کے بارے میں پوچھتے ہیں جس میں اِن کا اِختلاف ہے۔ اِختلاف مشاہدے کے بغیر ختم نہیں ہوتا،  اور قیامت کا مشاہدہ زندگی ختم کر دے گا۔  پھر لوگ جان لیں گے۔ اُن کو علم ہو جائے گا، اور وہ علم کیا علم ہو گا جو صاحب ِ علم کو فنا کر دے۔

زندگی میں اختلاف ایسے ہے،  جیسے فطرت کے مشاہدات میں اِختلاف  —  عجب حُسن ہے،  اِختلاف کے عالم میں!!

پہاڑ ہیں کہ میخوں کی طرح گڑے ہیں۔ چٹانیں ٹھوس، قوی عزم کی طرح ا ٹل،  اپنی جگہ قائم و دائم —  اور پھر پہاڑوں کے دامن میں وادیاں حسین و جمیل، دریا رواں دواں اور پھر میدان،  بچھونے کی طرح کشادہ، اور پھر صحرا اور سمندر —  پیاسے صحرا اور لبریز سمندر  —عجب عالم ہے — حُسن ہی حُسن،  جلوہ ہی جلوہ اور اِختلاف ہی اِختلاف !!

Pages: 1 2 3 4