تیز ہوائیں، خاموش فضائیں، بلند آسمان،متحرک اجسام،  منوّر سیّارگان،  تاریک راتوں میں روشن قمر،  درخشندہ ستارے اور پھر سورج —  بقا اور فنا کا بیک وقت پیامبر —  سب اِختلافاتِ زیست کے حسین کرشمے ہیں۔

رونقِ حیات اِختلافات کے دَم سے ہے۔ گرمی ٔبازار نیرنگیٔ اشیاء کے باعث ہے۔  شعور کی پختگی اور خیال کی بلندی اختلافِ شعور اور اختلافِ رائے سے ہے۔

عقیدے کی پختگی اِختلافِ عقیدہ کی برداشت کا نام ہے۔ ناپختہ عقیدہ چھوٹے برتن کی طرح جلدگرم ہوجاتا ہے۔ سب سے قوی عقیدہ اُس ذاتِ گرامی کا ہے،  جو کائنات کے ہر اِنسان کے لیے رحمت کا پیغامبر ہے۔ سلام ہو اُس ذاتؐ  پر،  جو سب کی سلامتی کی خواہاں ہے،  جس نے کسی کے لیے بددُعا نہیں کی، جو ہر زخم کے لیے مرہم ہے،  جو ہر دِل سے پیار فرماتی ہے،  جس کے پاس شفقتوں کے خزانے ہیں،  جس نے کم ظرفوں کو عالی ظرف بنایا، جس نے اِختلاف برداشت نہ کرنے والوں کو صبر و اِستقامت کی منزلیں عطا فرمائیں۔

بلند عقیدہ بلند دروازوں کی طرح آنے والوں کے استقبال میں کشادہ رہتا ہے۔  محبّت نہ ہو تو عقیدہ بلند نہیں ہو سکتا، اورمحبّت نفرت کی ضد ہے۔ عقیدوں سے نفرت اِنسانوں سے نفرت ہے،  اورانسانوں سے نفرت خالق کی محبّت سے محروم کر دیتی ہے۔

اِس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ سب عقائد درست ہیں،  قطعاً نہیں۔  درست عقیدے والا نادرست عقائد کو محبّت سے بدل دیتا ہے۔  نفرت اور غصّہ عقیدوں کی اِصلاح نہیں کر سکتے۔ جس دِل میں نفرت پرورش پائے،  وہ خود عقیدے سے محروم ہو جاتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4