یہ بات ذرا پیچیدہ سی ہے،  آئیے غور کریں!

 اللہ کی زمین پر، اللہ کے دِیے ہوئے رزق پر پلنے والے،  اللہ کے پیدا کیے ہوئے انسان،  اللہ کو نہیں مانتے۔  سوچیئے! کیا اللہ چاہتا ہے کہ سب لوگ ایک عقیدے میں شامل ہوں؟ کیا اللہ سب کو ہم عقیدہ بنانے پر قادر ہے کہ نہیں؟ اگر اللہ قادر ہے،  تو کیوں نہیں سب کو ہم عقیدہ بناتا؟ اللہ یقیناً قادر ہے،  اور اپنی قدرتِ کاملہ سے ہی عقیدوں کے اِختلاف کے باوجود کائنات کے ہر اِنسان کو رِزق عطا فرماتا ہے۔  یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ نے اِختلاف کوکبھی تباہ نہیں فرمایا،  یا مکمل طور پر اختلاف کا خاتمہ نہیں کیا — شیطان، اللہ کا دُشمن ہے،  لیکن ہے،  اور رہے گا — !! اِختلاف کا جواز یہ ہے کہ جنّت پیدا فرمانے والے نے دوزخ کو بھی پیدا فرمایا۔

  قوّت اور صداقت ایک ہی طاقت کے نام ہیں اور اِسی طاقت کو عقیدہ کہتے ہیں۔  یہ طاقت اِختلاف پر برہم نہیں ہوتی۔  قوّت بغاوت سے ڈرتی نہیں۔  صداقت آفتاب کی طرح ہے،  جسے کسی کاذب اندھیرے کا ڈر نہیں ہوتا۔  عقیدہ اتنا مطمئن ہوتا ہے کہ اسے کسی اِختلاف کا خوف نہیں ہوتا — خوفزدہ عقیدہ،  عقیدہ نہیں رہ سکتا!! ساری کائنات بھی اگر مخالف ہو جائے تو اللہ اور اللہ والوں کو فرق نہیں پڑ سکتا!

عقیدے کی طرح سیاست میں اِ ختلافِ رائے،  حیاتِ سیاست ہے۔  مخالف رائے کو تباہ کرنے کی آرزو کرنے والا دَور عارضی ہوتا ہے۔  جو زمانہ تاریخ میں داخل نہ ہو، وہ چاہے کتنا طویل ہو،  عارضی رہتا ہے۔ ہر اِنسان کو رائے دینے کا حق ہے، رائے رکھنے کا حق ہے،  زندگی گزارنے کا حق ہے۔  ہمارا مخالف ہی تو ہمارا ثبوت ہے،  اور وہی ہماری تقویّت بھی !! اپنے اپنے مدار میں گردشیں کرنے والے لامحدود ستارے آسمانوں کی رونقیں ہیں۔  اسی طرح کثرتِ رائے زندگی کی رونق ہے۔  جس طرح ہم اپنی رائے کو معتبر سمجھتے ہیں،  اُسی طرح دوسرا اِنسان بھی اپنی رائے کو معتبر اور مستند سمجھتا ہے۔  اپنااحترام مقصود ہو تو اختلافِ رائے کا بھی احترام ہونا چاہیے۔  اگر مَیں رات کو آفتاب دیکھتا ہوں تو مجھے اُس شخص کا بھی احترام کرنا چاہیے جو    دِن کو تارے دیکھتا ہے — ہر چند کہ دونوں باتیں بظاہر ناممکن ہیں۔

ہم اپنی خوش فہمی کو آگہی کہتے ہیں اور دوسروں کی آگہی کو غلط فہمی — تعجب ہے! یومِ حساب سے پہلے ہم ایک دوسرے کی عاقبت خراب کرنے میں مصروف ہیں۔  ہم خود کو جنّت کا مکین سمجھتے ہیں اور دوسروں کو دوزخ کا ایندھن  — حالانکہ معاملہ اِس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4