جس طرح یہ کائنات مجموعہِ اضداد ہے،  اِسی طرح ہماری زندگی بھی اَضداد و تضاد کا مُرقّع ہے۔  نُور و ظلمات کے حسین اِمتزاج سے یہ کائنات جلوہ آرا ہے۔

دِن اور رات کی تقسیم میں زمانے کا لامتناہی سفر جاری ہے۔  اِسی میں بُود و نابُود کی عظیم کار فرمائیاں ہو رہی ہیں۔  وقت کا سلسلہ مستقبل اور ماضی سے قائم ہے۔ مستقبل کو ماضی بنانے والے زمانے کو حال کہتے ہیں۔  یہ حال موجود لمحے کا نام ہے۔  یہ لمحہ کئی صدیاں نگل چکا ہے اور اِس نے ابھی کئی اور صدیوں کو نگلناہے۔

یہ کائنات ہمہ وقت تبدیل ہو رہی ہے،  لیکن یہ کائنات کبھی بدلتی نہیں۔ یہی اِس کا تضاد ہے اور یہی اِس کا حُسن ہے۔  رات کے دامن سے نُورِ آفتاب نکلتا ہے اور شام اِس سُورج کو نقاب پہنانے چلی آتی ہے۔ ہر مقام بیک وقت مشرق بھی ہے اور مغرب بھی، اور کوئی مقام نہ مشرق ہے، نہ مغرب۔  اِس تضاد میں کوئی تضاد نہیں۔ اِسی طرح قوس اور خطِ مستقیم دو مختلف قسم کے خطوط ہیں،  لیکن ایک حد سے پرے قوس اور خط ِ مستقیم میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

تخلیق میں تضادات نفرت کے لیے نہیں،  پہچان کے لیے پیدا فرمائے گئے ہیں۔  تضادات سے ہی افراد،  احوال اور اشیاء کی پہچان ممکن ہے۔

 خیر کو سمجھنے کے لیے شر اور شر کو جاننے کے لیے خیر کو تخلیق کیا گیا۔  ایک دوسرے کی ضد کے ساتھ ساتھ خیر اور شر کا اپنا الگ وجود موجود ہے۔ اگر خیر کا تصوّر نہ بھی ہو تو شر کسی اور نام سے موجود رہے گا۔  دونوں کو تخلیق کرنے والی ایک ہی ذات ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6