جو اِنسان ہماری نگاہ میں خار بن کر کھٹکتا ہے، وہ بھی کسی کا منظورِ نظر ہے۔ عقیدتوں کا فرق بھی مقدّر کے فرق کی طرح اِنسان کے ساتھ پیدا ہوتاہے، اِس میں کوئی اُلجھاؤ نہیں۔
یہ عقائد، بیان بلکہ حُسنِ بیان کی باتیں ہیں۔ اصل عقیدہ ہمارا عمل ہے۔ دوسرے کا عمل، اُس کا عقیدہ ہے۔ فریقین میں محبّت ہو تو عقیدے کا اختلاف ختم ہو جاتاہے۔ ڈوبنے والے سے اُس کی مدد سے پہلے عقیدہ پوچھنا ظلم ہے۔
زندگی کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ زندگی وجودیت ہے، روحانیت ہے، جنسیت ہے، حسّیت ہے، وحدت الوجود ہے، وحدت الشہود ہے، معاشی استحکام کا نام ہے، حقیقت ہے، خواب ہے، تقدیرہے، تدبیر ہے، یہ عقیدہ ہے، وہ عقیدہ ہے — یہ سب صحیح ہے، اِس میں اُلجھاؤ نہیں، لیکن میری زندگی میرا ہی نام ہے، میرا عمل ہے۔ مجھ سے میرے بارے میں سوال ہو گا۔ سورج کا مذہب نہیں پوچھا جاتا، اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ ہر اِنسان، ہر دوسرے اِنسان کی ضرورت کا خیال رکھے تو عقائد کا تضاد ختم ہو جاتاہے۔
تضادِ تخلیق ہی حُسنِ تخلیق ہے۔ تضادِ فکر حُسن ہے۔ تضادِ اعتقاد ہی زمین پر حُسنِ عقیدت ہے۔ شاہین اپنی بلند پروازی میں کوتاہی نہ کرے، اپنی بلند نگاہی کا لطف اُٹھائے، اُسے کرگس کی مُردار خوری سے کیا عناد؟ مور اپنے پروں کو پھیلا کر رقص کرے، اُسے کوّوں سے کیا ضد؟
جو اِنسان اللہ کے جتنا قریب ہو گا، اُتنا ہی اِنسانوں کے قریب ہوگا۔ اللہ سے محبّت کرنے والے ہر اِنسان سے محبّت کرتے ہیں۔ جو ذات اللہ کے بہت ہی قریب ہے، وہی کائنات کے لیے رحمت ہے۔ پستیوں کی خدمت سے بلندی حاصل ہوتی ہے۔ تضادات کو خالق کے حوالے سے پہچانا جائےتو تضادات میں کوئی اُلجھاؤ نہیں۔ یہ تضادات نفرت کے لیے نہیں، محبّت اور پہچان کے لیے ہیں۔ خالق حق ہے، تخلیق اپنے ہمہ رنگ جلووں سمیت بر حق ہے۔ مخلوق اپنے عقائد و نظریات کے تضادات کے باوجود عین حقیقت ہے۔ نجات، عمل اور حُسنِ سلوک میں ہے۔